وکی لیکس کی جانب سے افشا کی گئی امریکی سفارتی کیبلز میں انکشاف ہوا ہے کہ نومبر 2007 میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی حکومت سے وزیراعظم بننے کے لیے مبینہ حمایت طلب کی تھی۔
افشا ہونے والی دستاویزات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا تھا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے امریکی سفیر سے سوال کیا کہ اگر وہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں تو کیا امریکی انتظامیہ ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوگی؟
سفارتی مراسلے کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حکومت میں اعلیٰ عہدے کے حصول کی خاطر قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے ووٹوں کی حمایت پیش کرنے کا اشارہ بھی دیا۔ اس موقع پر انہوں نے واشنگٹن کو مشورہ دیا کہ وہ بینظیر بھٹو کی یکطرفہ حمایت سے گریز کرے۔
امریکی سفیر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستانی سیاست میں خود کو ایک کنگ میکر کے طور پر پیش کرتے ہوئے اقتدار میں اہم نقش حاصل کرنے اور اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی۔