معروف سعودی عالمِ دین شیخ عاصم الحکیم نے پاکستان کے مستقبل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے فضل سے پاکستان جلد دنیا کی ایک سپر پاور بنے گا۔
ان کے اس بیان نے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اور جیوپولیٹیکل اہمیت کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
پاکستان اپنے جوہری نظام، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، بڑی نوجوان آبادی اور مضبوط دفاعی صلاحیات کے باعث خطے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
جنوبی ایشیا، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کا محلِ وقوع عالمی طاقتوں کی جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کے لیے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ خصوصاً مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے بعد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں اہم پیشرفت دیکھی گئی ہے۔
پاکستان کے دفاعی وزن اور عالمی سطح پر مضبوط ہوتے تعلقات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کے ممکنہ عالمی کردار اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو اب بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔