پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کی تدفین کے بعد اقوامِ متحدہ سمیت دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات اور اظہارِ افسوس کا سلسلہ جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کا اظہارِ ہمدردی
اقوامِ متحدہ نے سانحہ پمز پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق بچوں کے والدین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق نومولود بچوں کی ہلاکت والدین کے لیے ناقابلِ تصور صدمہ ہے، اور اقوامِ متحدہ پاکستانی حکومت کی ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہے۔
چین
اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پمز میں 14 نومولود بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے پر افسوس ہے۔ سفارتخانے نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
برطانیہ
پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ پمز آتشزدگی سے 14 نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر افسوسناک ہے۔ ہائی کمیشن نے واضح کیا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی ہمدردیاں بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
سعودی عرب
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پمز ہسپتال میں پیش آنے والی اس المناک آتشزدگی کے باعث جان سے جانے والے نومولود بچوں کے اہلِ خانہ اور پاکستان کی حکومت و عوام سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس المناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت و عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان کے لیے سلامتی و تحفظ کی خواہش کرتا ہے۔
ایران
ایران نے بھی سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی ظاہر کی۔ چاروں ممالک اور عالمی ادارے نے اس افسوسناک سانحے پر متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔
سانحے کا پس منظر
خیال رہے کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں 15 بچے زیرِ علاج تھے، جن میں سے ایک بچے کو اس کی خالہ نے بچا لیا جبکہ باقی 14 نومولود جاں بحق ہوگئے۔ ہسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں انکیوبیٹر کے ساتھ نصب نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی، جس سے پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں گیا اور آکسیجن بند ہونے و جھلسنے سے بچوں کی موت واقع ہوئی۔
غم زدہ والدین
سانحے میں بچے کھونے والے والدین نے سرکاری ہسپتال کے ناقص انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ راولپنڈی کے ایک متاثرہ باپ نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے ہسپتال کی گنجائش انتہائی کم ہے اور حکومتی فنڈز کے استعمال پر بھی وضاحت طلب کی۔