سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کے ذریعے دہشتگردی کے نئے دعوے سامنے آنے پر ریاستی بیانیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی پراکسیز کے پاس میدان میں کوئی مؤثر گنجائش باقی نہیں رہی اور وہ پراپیگنڈے کے ذریعے اپنی موجودگی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پرانی ویڈیوز دوبارہ جاری کرکے دہشتگرد کارروائیوں یا کامیابیوں کے دعوے کرنا زمینی حقائق تبدیل نہیں کرسکتا۔ ریاستی کارروائیوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو مسلسل نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ان کے لیے کھلے عام کارروائی کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
ریاستی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہیروف 2 کے دوران 216 دہشتگرد مارے گئے تھے، جبکہ اس کے بعد بھی مختلف کارروائیوں میں دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں ہیروف 3.0 سے متعلق دعوؤں کو بھی محض پراپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔
بیانیے میں کہا گیا کہ میدان میں محدود ہوتی کارروائیوں کے بعد دہشتگرد عناصر پرانی ویڈیوز اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے خوف اور بے یقینی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ایسے حربے ان کی کمزور ہوتی عملی صلاحیت کو چھپا نہیں سکتے۔
ریاستی مؤقف کے مطابق بلوچستان کے عوام ترقی، امن اور معمول کی زندگی چاہتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف ریاستی اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیانیے میں کہا گیا کہ دہشتگردوں اور ان کے غیر ملکی سرپرستی یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دیکھیے: قلات میں فتنۃ الہندوستان کی کارروائی، 3 ٹرک اور 7 ٹرانسپورٹ کارکن اغوا