امریکہ میں قائم ایک ویب سائٹ کے ذریعے دیامر بھاشا ڈیم کے بجلی منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبر کو حکومت پاکستان اور وزارت توانائی نے گمراہ کن اور فیک نیوز قرار دے کر مسترد کردیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ویب سائٹ اپنے دعوے کے حق میں کوئی مبینہ لیک دستاویز، منسوخی کا حکم نامہ یا کسی سرکاری فیصلے کی مصدقہ نقل پیش نہیں کرسکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مستند ثبوت کے بڑی خبر بنا کر پیش کرنا سنسنی خیزی اور مخصوص ایجنڈے کے تحت گمراہ کن معلومات پھیلانے کے مترادف ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم بدستور 4,500 میگاواٹ کا اہم پن بجلی منصوبہ ہے اور اسے منسوخ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
حکام کے مطابق منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی بدستور برقرار ہے، جبکہ پاور منصوبے سے متعلق کام جاری ہے۔
حکومتی ذرائع نے دیامر بھاشا ڈیم کے پاور پروجیکٹ کو آئی پی پیز لابی کے دباؤ سے جوڑنے کے دعوے بھی مسترد کردیئے۔
ذرائع کے مطابق نئے آئی پی پیز کا باب پہلے ہی بند کیا جاچکا ہے، اس لیے ڈیم کے پاور منصوبے کو آئی پی پیز سے جوڑ کر خبریں بنانا بے بنیاد ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور پن بجلی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے اہم منصوبہ ہے، جس پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد اطلاعات کو مسترد کیا جاتا ہے۔
دیکھیے: شبر زیدی کا سی پیک مخالف بیانیہ مسترد، جھوٹے دعوے حقائق کے منافی قرار