نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال پولیس کے مطابق ہفتے کے روز ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 626 ہو گئی، جبکہ 2 ہزار 400 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں تقریباً 90 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ملک میں ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث تشویش بدستور برقرار ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارہ دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے۔ ڈیوڈ فشر کے مطابق بدھ کے روز آنے والی تباہی سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اسی طرح چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد 7 ہو گئی ہے، جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
بین الاقوامی امداد
ریڈکریسنٹ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جان بچانے والی فوری ضروریات کیلئے عطیہ دہندگان سے تقریباً ڈھائی کروڑ سوئس فرانک (تقریباً تین کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کے مطابق متاثرہ افراد کی مدد کیلئے اس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک کر دیا گیا ہے۔
یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔
دیکھیے: نیپال، تبت میں تباہ کن سیلاب، 273 سے زائد افراد ہلاک، 1500 لاپتہ