خیبر پختونخوا میں انصاف اور شفافیت کے دعوؤں کی دھجیاں اڑ گئیں۔ گومل یونیورسٹی میں مبینہ غیرقانونی بھرتیوں اور ترقیوں کے سنسنی خیز اسکینڈل نے صوبائی حکومت کی بدعنوانی اور بددیانتی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی منظرعام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق جامعہ میں گریڈ 18، 19 اور 20 کے 71 افسران کو دی گئی ترقیاں مکمل طور پر غیرقانونی اور قواعد کے خلاف قرار دی گئی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ گومل یونیورسٹی میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرریاں اور ترقیاں میرٹ کو پامال کر کے کی گئیں، جو صوبائی حکومت کی انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ من پسند امیدواروں کو اضافی اکیڈمک نمبرز دیے گئے اور ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔ صوبائی سرپرستی میں تعلیمی اداروں میں بددیانتی کی یہ بدترین مثال ہے۔
سنگین بدعنوانی کا عالم یہ ہے کہ ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے ایک امیدوار کو بھی مبینہ طور پر کاغذات میں ترمیم کر کے کامیاب قرار دے دیا گیا، جس سے میرٹ کا قتلِ عام ہوا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے انکشافات کے بعد اصل ریکارڈ کی فوری تصدیق اور اعلیٰ سطحی جانچ کی سفارش کی ہے تاکہ اس بدعنوانی میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تباہی کے دہانے پر دھکیل چکی ہے۔ بدعنوانی اور بددیانتی کے ایسے اقدامات سے صوبے کے قابل اور حقدار نوجوانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
دیکھیے: کرک میں طلبہ کا دھرنا، صوبائی حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوالات