پمز اسلام آباد میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کو ابھی چند روز ہی گزرے ہیں کہ فیصل آباد چلڈرن ہسپتال میں بچوں کی گنجائش سے زائد تعداد نے صحت کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہسپتال میں ادویات کی قلت ہے جبکہ ایمرجنسی وارڈ میں ایک بستر پر 2 سے 3 بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے مریض بچوں کی صحت اور علاج کے معیار پر تشویش پیدا کردی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش نرسری کی صورتحال پر ظاہر کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف 30 بستروں کی نرسری میں 152 نومولود زیر علاج ہیں۔ اتنی زیادہ تعداد میں بچوں کو محدود جگہ پر رکھنا خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔
پمز نرسری سانحے کو ابھی چند روز ہی گزرے ہیں، جس میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔ 26 اگست کو اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے بعد پیش آنے والے اس واقعے نے پسپتالوں میں بچوں کی حفاظت اور ہنگامی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے تھے۔
ایسے میں فیصل آباد چلڈرن ہسپتال کی موجودہ صورتحال یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا متعلقہ اداروں نے اس سانحے سے کوئی سبق سیکھا ہے؟
عوامی ہسپتال میں علاج کی صورتحال سے متعلق شفافیت بنیادی ضرورت ہے، خاص طور پر وہاں جہاں بڑی تعداد میں نومولود زیر علاج ہوں۔
اور ساتھ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں بچوں کو فوری محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا انتظام موجود ہے یا نہیں۔ اور اصل امتحان تحقیقات اور کارروائی کے ساتھ ساتھ بروقت اصلاحات ہیں۔ اگر ہسپتالوں میں گنجائش، ادویات اور حفاظتی انتظامات کے مسائل برقرار رہے تو اگلا سانحہ روکنے کے بجائے اس کے بعد سوال اٹھانے کی نوبت آسکتی ہے۔
دیکھیے: پمز آتشزدگی: 8 ذمہ دار معطل، فوجداری کارروائی کا حکم، ایک نرس کیلئے ستارۂ خدمت