ایک بچہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو والدین کو اس کی واپسی کی فکر ہونی چاہیے، لیکن خیبر پختونخوا میں بچوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار نے اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا صوبے میں بچوں کے تحفظ کا حکومتی نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے؟
خیبر پختونخوا پولیس ذرائع کے مطابق رواں برس کے پہلے سات ماہ کے دوران بچوں سے زیادتی کے 370 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ ان مقدمات میں 565 ملزمان نامزد کیے گئے، جن میں سے 486 کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم 324 مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 66 بچے قتل ہوئے، جبکہ تقریباً 10 بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
یہ محض اعداد نہیں بلکہ حکومتی گورننس کے لیے ایک اہم پیمانہ بھی ہیں۔ کیونکہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی صرف سڑکوں، منصوبوں یا بجٹ کے استعمال سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کے شہری، خصوصاً بچے، کتنے محفوظ ہیں۔
بچوں کے خلاف جرائم کے یہ واقعات اس سوال کو تقویت دیتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے پاس جرائم کی روک تھام، بچوں کی بروقت حفاظت، خطرات کی نشاندہی اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے کیا مؤثر انتظامی حکمت عملی موجود ہے؟
صرف واقعے کے بعد پولیس کا حرکت میں آنا کافی نہیں۔ اگر کوئی بچہ لاپتا ہونے کے بعد کئی دنوں تک تلاش کا موضوع بنے اور بالآخر اس کی لاش ملے، تو سوال صرف ملزمان کی گرفتاری کا نہیں رہتا بلکہ ریاستی نگرانی، پولیس رسپانس، مقامی انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن کے پورے نظام کی کارکردگی بھی زیرِ بحث آتی ہے۔
حالیہ آیت نور کیس نے بھی اسی تشویش کو نمایاں کیا۔ پانچ سالہ بچی کے لاپتا ہونے کے بعد اس کی لاش کنویں سے برآمد ہوئی جبکہ پولیس نے مبینہ زیادتی اور قتل کے پہلو سے تحقیقات کیں۔
آیت نور کا واقعہ اپنی جگہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار ہونے کے بعد کیا حکومتی نظام اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہا ہے؟
حکومت کی گورننس کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کسی واقعے کے بعد کتنی گرفتاریاں ہوئیں یا کتنی کمیٹیاں بنیں، بلکہ یہ ہے کہ اگلا واقعہ روکنے کے لیے کیا بدلا؟
324 مقدمات کا زیرِ التوا ہونا بھی حکومتی کارکردگی کے ایک دوسرے اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گرفتاری کے بعد تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالت میں مقدمے کی مؤثر پیروی نہ ہو تو انصاف کا عمل طویل ہوتا ہے، جبکہ تاخیر متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک اور آزمائش بن سکتی ہے۔
یہاں حکومت کے سامنے ایک بنیادی گورننس چیلنج موجود ہے: پولیسنگ کو ردِعمل سے نکال کر روک تھام کی طرف کیسے لے جایا جائے؟ بچوں کے تحفظ کے اداروں، پولیس، ضلعی انتظامیہ، اسکولوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کس حد تک مؤثر ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کسی بچے کے خطرے میں ہونے سے پہلے ریاستی نظام اس خطرے کو محسوس کر پاتا ہے؟
اگر حکومت امن و امان کو اپنی اولین ترجیحات میں شمار کرتی ہے تو بچوں کے خلاف جرائم کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا، کیونکہ بچے کسی بھی معاشرے کے سب سے کمزور اور سب سے زیادہ ریاستی تحفظ کے مستحق طبقے میں شامل ہوتے ہیں۔
370مقدمات، 66 بچوں کی ہلاکتیں اور سینکڑوں زیرِ التوا مقدمات صوبائی حکومت کے لیے محض اعداد و شمار نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہیں کہ حکومت کی گورننس صرف دعووں اور اعلانات تک محدود ہے یا اس کے اثرات عام شہری، بالخصوص ایک بچے اور اس کے خاندان کی زندگی میں بھی محسوس ہوتے ہیں