"> وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مؤقف پر شہریوں کا شدید ردعمل
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مؤقف پر شہریوں کا شدید ردعمل، تنقید کی زد میں

ردعمل میں بلوچستان میں کالعدم مسلح تنظیموں کی کارروائیوں، دہشت گردی کے متاثرین اور لاپتا افراد کے معاملات کو یک طرفہ انداز میں پیش کرنے سے گریز پر زور دیا گیا ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مؤقف پر شہریوں کا شدید ردعمل

وی بی ایم پی کے حالیہ بیان پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ لاپتا افراد کے حقیقی کیسز میں شفاف قانونی کارروائی کے ساتھ بلوچستان میں دہشت گردی کے وسیع تر پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

September 2, 2026

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کی جانب سے لاپتا افراد، مبینہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق حالیہ مؤقف پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات کو بلوچستان میں جاری دہشت گردی اور تشدد کے وسیع تر پس منظر سے الگ کرکے پیش کرنا ایک نامکمل تصویر پیش کرتا ہے۔

ردعمل میں کہا گیا ہے کہ لاپتا افراد کے حقیقی اور قانونی معاملات شفاف تحقیقات، عدالتوں اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں، تاہم کالعدم تنظیموں کی جانب سے شہریوں، مزدوروں، مسافروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جن میں جعفر ایکسپریس حملہ اور مسافر گاڑیوں پر حملے بھی شامل ہیں۔

ردعمل میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض ایسے افراد، جن کے نام لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل رہے، بعد ازاں مسلح تنظیموں سے وابستہ پائے گئے یا دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔

بیان میں سلیم بلوچ، طیب بلوچ، محمد نعیم ستکزئی اور دیگر افراد کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسے معاملات میں ہر کیس کی الگ اور شفاف قانونی جانچ ضروری ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کے حقیقی مسائل اور دہشت گرد تنظیموں کے کردار کے درمیان واضح فرق کیا جا سکے۔

بیان میں بلوچستان میں بعض طلبہ اور سیاسی پلیٹ فارمز پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ نوجوانوں کی نظریاتی متحرک کاری کے ذریعے مسلح تنظیموں کے لیے بالواسطہ ماحول پیدا کرتے ہیں۔

تاہم اس نوعیت کے دعووں کی بھی آزادانہ اور قابلِ تصدیق تحقیقات ضروری قرار دی گئی ہیں تاکہ سیاسی سرگرمی، احتجاج اور دہشت گردی کے درمیان قانونی حدود واضح رہیں۔

ردعمل میں کہا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو تعلیم، روزگار، صحت، بنیادی سہولیات اور پائیدار امن کی ضرورت ہے۔

لاپتا افراد کے حقیقی کیسز میں قانون اور شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے متاثرین کو بھی انصاف فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ یک طرفہ بیانیے کے بجائے تمام متاثرین اور تمام متعلقہ حقائق کو سامنے رکھ کر ہی بلوچستان میں دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *