"> بلوچستان میں بی ایل ایف کے کامیابی کے دعوے؟
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

بلوچستان میں بی ایل ایف کی کارروائی کے دعوے، زمینی حقائق نے پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

بلوچستان میں بی ایل ایف کے حملوں کے دعووں کے برعکس سکیورٹی کارروائیوں میں دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی نے تنظیم کے پراپیگنڈا بیانیے پر سوال اٹھا دیے۔
بی ایل ایف

بی ایل ایف کے حالیہ حملوں کے دعوؤں کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں، جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔

September 2, 2026

بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے 25 سے 30 اگست کے دوران مختلف حملوں اور کارروائیوں میں کامیابی کے دعووں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔

فتنہ الہندوستان سے وابستہ بی ایل ایف کی جانب سے سوشل میڈیا پر کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد اپنی موجودگی اور جنگی صلاحیت کا تاثر برقرار رکھنا ہے، جبکہ اسی عرصے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورک کو مسلسل دباؤ کا سامنا رہا۔

27 اور 28 اگست کو خضدار کے علاقے ساسول میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ 4 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

فورسز کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران اہم پیش رفت تھی، جس نے بی ایل ایف سے وابستہ عناصر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کیا۔

خاران میں دہشت گردوں نے ناکہ بندی قائم کرنے اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی کے فوری ردعمل کے بعد حملہ آور علاقے سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ بعد ازاں واشک میں کیے گئے ایک فالو اَپ آپریشن کے دوران مزید 2 فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ کارروائی میں بھاری ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے کارروائیوں کے بعد فرار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے دعووں اور زمینی صورتحال میں واضح فرق موجود ہے۔

سکیورٹی کا کہنا ہے کہ بی ایل ایف کی جانب سے الگ تھلگ حملوں کو فتح کے طور پر پیش کرنا دراصل سوشل میڈیا پروپیگنڈا ہے، جس کے ذریعے تنظیم اپنے کارکنوں اور حامیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ بلوچستان میں مؤثر انداز میں سرگرم ہے۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم ماضی میں بھی اپنے مخالفین، عام شہریوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی رہی ہے، جبکہ اپنے ایجنڈے سے اختلاف رکھنے والوں کو مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ قرار دے کر دھمکیوں اور حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

31 اگست کو بھی سکیورٹی قافلے پر حملے کی کوشش کی گئی جسے الرٹ سکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں ابتدائی طور پر 12 فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے مزید 6 دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بھی بی ایل ایف اور فتنہ الہندوستان کے پروپیگنڈا بیانیے کے برعکس ان کے نیٹ ورک پر پڑنے والے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

سکیورٹی کے مطابق آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں اور مسلح عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا اور مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایل ایف کے سوشل میڈیا دعووں کے بجائے دہشت گردوں کی ہلاکت، اسلحے کی برآمدگی اور حملوں کی ناکامی زمینی صورتحال کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *