پشین کے علاقے زیارت کراس میں کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے نے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، اسمگلنگ اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ممکنہ باہمی تعلقات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا۔
اکتیس اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں نے کسٹمز چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جہاں ایف سی اور پولیس اہلکار کسٹمز تنصیب کی حفاظت پر مامور تھے۔
حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کی تاہم موقع پر موجود اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ جوابی کارروائی میں 10 دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک کسٹمز اہلکار اور ایک افسر سمیت 6 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ اطلاع ملنے پر ایف سی کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں کارروائی شروع کردی گئی۔
زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ ایک اہم سرحدی مقام پر قائم ہے جہاں غیر کسٹمز ادا شدہ گاڑیوں، منشیات اور اسمگل شدہ سامان کی روک تھام کے لیے نگرانی کی جاتی ہے۔
ایسے میں اس تنصیب کو نشانہ بنانا محض ایک سرکاری چیک پوسٹ پر حملہ نہیں بلکہ سرحدی نگرانی، قانونی تجارت اور اسمگلنگ و منشیات کے خلاف ریاستی اقدامات کو متاثر کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
واقعے نے دہشت گردی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی آمدورفت سے جڑے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی ریاستی اداروں کی ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ دہشت گرد گروہوں کے لیے ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس مالی معاونت، نقل و حرکت اور سہولت کاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پشین حملے کا ایک اہم پہلو پاک افغان سرحد سے ملحق دشوار گزار علاقوں کا دہشت گرد عناصر کی جانب سے ممکنہ استعمال بھی ہے۔ مشکل جغرافیہ اور سرحدی راستے حملہ آوروں کو نقل و حرکت اور چھپنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، تاہم حملے کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن اور دہشت گردوں کے تعاقب کا سلسلہ جاری ہے۔
ریاستی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی صرف حملہ آوروں تک محدود نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، معاونین اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف بھی جاری رکھی جائے گی۔
زیارت کراس حملہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی اداروں اور اہم سرحدی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ ان غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو دہشت گرد نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کرسکتی