ایک طرف وہ غریب والدین ہیں جو پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں، انہیں ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا افسر بنتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے محفوظ مستقبل کے خواب بنتے ہیں۔ دوسری طرف وہ عسکری قیادت ہے جو اپنے بچوں کے لیے تو مغرب کی بہترین جامعات، پی ایچ ڈی کی ڈگریاں، تحفظ اور پرآسائش زندگی چاہتی ہے، لیکن عام بلوچ خاندانوں کے معصوم نوجوانوں کو ریاست سے ٹکرانے، پہاڑوں کی سخت زندگی اور مسلح جدوجہد کی بھٹی میں جھونکنے کا درس دیتی ہے۔
یہ سوال صرف سیاست یا نظریے کا نہیں رہتا بلکہ یہ ننگی منافقت اور گھناؤنے دوغلے پن کا سوال بن جاتا ہے۔ انسان کا بنیادی اصول ہے کہ وہ دوسروں کے بچوں کے لیے وہی راستہ پسند کرتا ہے جو اپنے بچوں کے لیے چنتا ہے لیکن یہ صرف اس شرط پر ممکن ہے جب وہ واقعی ان بچوں سے مخلص ہو۔ عسکریت پسند قیادت کا اپنے بچوں کو بیرونِ ملک بھیجنا اور غریب بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں بلوچ قوم یا اس کے مستقبل سے کوئی ہمدردی نہیں، بلکہ وہ صرف انہیں اپنے سیاسی مقاصد کا ایندھن بنا رہے ہیں۔
بلوچستان کا ایک غریب والد بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے زندہ سلامت گھر لوٹے۔ ایک ماں بھی یہی خواب دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ وہ اپنے جگر گوشے کو کسی پہاڑ، جنگ یا اندھی موت کے حوالے کرنے کے لیے پروان نہیں چڑھاتی۔
اسی تناظر میں لال خان نواز کا واقعہ ایک دردناک اور آنکھیں کھولنے والی مثال ہے۔ جس نوجوان کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہونا تھا، اگر وہ کسی مسلح اور گمراہ کن بیانیے کی بھینٹ چڑھ گیا تو اس نقصان کو صرف ایک فرد کی موت کہہ کر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ایک غریب خاندان کا خواب بکھر گیا، والدین کی عمر بھر کی امیدیں ٹوٹ گئیں اور معاشرہ ایک ممکنہ ڈاکٹر سے محروم ہو گیا۔
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نظریاتی ذہن سازی اور انہیں انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ خطے کے مختلف عسکریت پسند گروہ ہمیشہ سے نوجوانوں کو نفرت، انتقام اور تشدد کے جھوٹے بیانیے سے متاثر کر کے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب ایک روشن خیال ذہن کو مسلسل زہر سے آلودہ کیا جائے تو اس کی تعلیم، کیریئر اور تمام تر صلاحیتیں ثانوی بن جاتی ہیں۔
یہاں ریاست اور معاشرے پر سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صرف مسلح عناصر کا خاتمہ کافی نہیں؛ ان عوامل اور پراپیگنڈا نیٹ ورکس کا توڑ بھی ضروری ہے جو پڑھ لکھ کر بھی نوجوانوں کو گمراہی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ، شعور اور فتنہ انگیز بیانیوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
لال خان نواز کا واقعہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اگر ایک میڈیکل کا طالب علم، جسے سرکاری اسکالرشپ اور روشن مستقبل میسر تھا، اس دوغلے بیانیے کا شکار ہو سکتا ہے تو کم عمر اور ناپختہ ذہنوں کے لیے خطرہ کس قدر سنگین ہوگا۔ اگر آج نوجوانوں کو اس نفرت اور تشدد کے بیانیے سے محفوظ نہ رکھا گیا تو کل اس کے اثرات مزید معصوم بچوں تک پہنچیں گے، جن کی سوچ کو گمراہ کر کے تباہی کے راستے پر ڈالنا آسان ہوتا ہے۔
آخر میں فیصلہ بلوچ نوجوانوں اور ان کے والدین کو کرنا ہے: کیا ان رہنماؤں کا بیانیہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے جو اپنے بچوں کو لندن اور یورپ میں پی ایچ ڈی کروائیں اور بلوچ کے بچوں کو پہاڑوں پر جا کر مرنے کا درس دیں؟ اگر اپنے بچوں کے لیے تعلیم، تحفظ اور پرآسائش زندگی درست انتخاب ہے، تو پھر دوسروں کے بچوں کے لیے بندوق اور موت کا راستہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
سیاسی یا نظریاتی دکان داری سے بڑھ کر ایک نوجوان کی زندگی اور اس کے والدین کے خواب اہم ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق نہیں؛ کتاب، تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع چاہئیں۔ ایک نوجوان کو کھونا صرف ایک جان کا ضیاع نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کے مستقبل کا ضیاع ہے۔
دیکھیے: خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کا فقدان، حکومتی ترجیحات سوالیہ نشان