"> میڈیکل اسٹوڈنٹ سے عسکریت پسند تک - HTN Urdu
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

میڈیکل اسٹوڈنٹ سے عسکریت پسند تک

دہشت گردوں کے اپنے بچے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم میں مشغول اور عام بلوچ کے بچوں کے ہاتھ میں بندوق؛ یہ منافقت اور دوغلا پن بلوچستان کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔
میڈیکل اسٹوڈنٹ سے عسکریت پسندلال خان نواز تک

بلوچ عسکریت پسند قیادت کے دوغلے پن نے غریب بلوچ نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا۔ خود بیرونِ ملک اور عام بلوچ کو پہاڑوں کی دھول بنا دیا۔

September 3, 2026

ایک طرف وہ غریب والدین ہیں جو پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں، انہیں ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا افسر بنتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے محفوظ مستقبل کے خواب بنتے ہیں۔ دوسری طرف وہ عسکری قیادت ہے جو اپنے بچوں کے لیے تو مغرب کی بہترین جامعات، پی ایچ ڈی کی ڈگریاں، تحفظ اور پرآسائش زندگی چاہتی ہے، لیکن عام بلوچ خاندانوں کے معصوم نوجوانوں کو ریاست سے ٹکرانے، پہاڑوں کی سخت زندگی اور مسلح جدوجہد کی بھٹی میں جھونکنے کا درس دیتی ہے۔

یہ سوال صرف سیاست یا نظریے کا نہیں رہتا بلکہ یہ ننگی منافقت اور گھناؤنے دوغلے پن کا سوال بن جاتا ہے۔ انسان کا بنیادی اصول ہے کہ وہ دوسروں کے بچوں کے لیے وہی راستہ پسند کرتا ہے جو اپنے بچوں کے لیے چنتا ہے لیکن یہ صرف اس شرط پر ممکن ہے جب وہ واقعی ان بچوں سے مخلص ہو۔ عسکریت پسند قیادت کا اپنے بچوں کو بیرونِ ملک بھیجنا اور غریب بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں بلوچ قوم یا اس کے مستقبل سے کوئی ہمدردی نہیں، بلکہ وہ صرف انہیں اپنے سیاسی مقاصد کا ایندھن بنا رہے ہیں۔

بلوچستان کا ایک غریب والد بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے زندہ سلامت گھر لوٹے۔ ایک ماں بھی یہی خواب دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ وہ اپنے جگر گوشے کو کسی پہاڑ، جنگ یا اندھی موت کے حوالے کرنے کے لیے پروان نہیں چڑھاتی۔

اسی تناظر میں لال خان نواز کا واقعہ ایک دردناک اور آنکھیں کھولنے والی مثال ہے۔ جس نوجوان کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہونا تھا، اگر وہ کسی مسلح اور گمراہ کن بیانیے کی بھینٹ چڑھ گیا تو اس نقصان کو صرف ایک فرد کی موت کہہ کر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ایک غریب خاندان کا خواب بکھر گیا، والدین کی عمر بھر کی امیدیں ٹوٹ گئیں اور معاشرہ ایک ممکنہ ڈاکٹر سے محروم ہو گیا۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نظریاتی ذہن سازی اور انہیں انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ خطے کے مختلف عسکریت پسند گروہ ہمیشہ سے نوجوانوں کو نفرت، انتقام اور تشدد کے جھوٹے بیانیے سے متاثر کر کے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جب ایک روشن خیال ذہن کو مسلسل زہر سے آلودہ کیا جائے تو اس کی تعلیم، کیریئر اور تمام تر صلاحیتیں ثانوی بن جاتی ہیں۔

یہاں ریاست اور معاشرے پر سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صرف مسلح عناصر کا خاتمہ کافی نہیں؛ ان عوامل اور پراپیگنڈا نیٹ ورکس کا توڑ بھی ضروری ہے جو پڑھ لکھ کر بھی نوجوانوں کو گمراہی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ، شعور اور فتنہ انگیز بیانیوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

لال خان نواز کا واقعہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اگر ایک میڈیکل کا طالب علم، جسے سرکاری اسکالرشپ اور روشن مستقبل میسر تھا، اس دوغلے بیانیے کا شکار ہو سکتا ہے تو کم عمر اور ناپختہ ذہنوں کے لیے خطرہ کس قدر سنگین ہوگا۔ اگر آج نوجوانوں کو اس نفرت اور تشدد کے بیانیے سے محفوظ نہ رکھا گیا تو کل اس کے اثرات مزید معصوم بچوں تک پہنچیں گے، جن کی سوچ کو گمراہ کر کے تباہی کے راستے پر ڈالنا آسان ہوتا ہے۔

آخر میں فیصلہ بلوچ نوجوانوں اور ان کے والدین کو کرنا ہے: کیا ان رہنماؤں کا بیانیہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے جو اپنے بچوں کو لندن اور یورپ میں پی ایچ ڈی کروائیں اور بلوچ کے بچوں کو پہاڑوں پر جا کر مرنے کا درس دیں؟ اگر اپنے بچوں کے لیے تعلیم، تحفظ اور پرآسائش زندگی درست انتخاب ہے، تو پھر دوسروں کے بچوں کے لیے بندوق اور موت کا راستہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

سیاسی یا نظریاتی دکان داری سے بڑھ کر ایک نوجوان کی زندگی اور اس کے والدین کے خواب اہم ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو بندوق نہیں؛ کتاب، تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع چاہئیں۔ ایک نوجوان کو کھونا صرف ایک جان کا ضیاع نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کے مستقبل کا ضیاع ہے۔

دیکھیے: خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کا فقدان، حکومتی ترجیحات سوالیہ نشان

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *