خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کی صورتحال ایک بار پھر حکومتی ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ جس میں سرفہرست چترال میں دو اضلاع کے درمیان رابطے کا اہم پل خستہ حالی کا شکار ہے، کئی علاقوں میں سڑکیں اور رابطہ راستے بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہیں، سرکاری اسکولوں کی زمینوں پر قبضوں کے معاملات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے میں بھی مریضوں کو بنیادی سہولیات اور بستروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات کب میسر آئیں گی؟
چترال میں سونوغر اور پرواک کو ملانے والا خستہ حال معلق پل مقامی آبادی کے لیے ایک اہم مگر خطرناک گزرگاہ بنا ہوا ہے۔ یہ پل 2007 کے سیلاب سے متاثر ہوا تھا، تاہم مقامی لوگ آج بھی اسے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ اس پل کے ذریعے شہری ہائی اسکول، ہسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات تک پہنچتے ہیں، جبکہ سونوغر کے رہائشیوں کے لیے شندور روڈ تک رسائی بھی اسی راستے سے وابستہ ہے۔ دور دراز علاقوں میں ایک پل محض آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار کے لیے بنیادی رابطہ ہوتا ہے۔
چترال کے علاوہ خیبرپختونخوا کے دیگر پہاڑی اضلاع میں بھی سڑکوں اور پلوں کی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران رابطہ سڑکیں متاثر ہوتی ہیں اور بعض علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ کوہستان، تورغر، دیر، سوات اور دیگر اضلاع میں قدرتی آفات کے بعد انفراسٹرکچر کی بحالی ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ سڑک یا پل کا متاثر ہونا صرف سفر میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ مریضوں، طلبہ، تاجروں اور روزگار سے وابستہ لوگوں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اجلاس میں سرکاری اسکولوں کی اراضی و املاک پر غیر قانونی قبضوں سمیت مختلف مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اسکولوں کی حفاظت، ریکارڈ کی درستگی اور قبضہ شدہ اراضی جیسے معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی بنیادی املاک کو بھی مؤثر تحفظ درکار ہے۔
صوبے کے کئی سرکاری اسکولوں میں عمارتوں کی خستہ حالی، فرنیچر، پینے کے صاف پانی، واش رومز اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے نئے داخلوں، ڈیجیٹل تعلیم، ماڈل اسکولز، سولر سسٹم اور اساتذہ کی بھرتیوں کے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں، تاہم پہلے سے موجود اسکولوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
صحت کے شعبے میں صورتحال مزید حساس ہے۔ ہسپتالوں کی بحالی، طبی آلات، ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھرتیوں کے منصوبے اپنی جگہ، لیکن اگر کسی غریب باپ کو اپنے بیمار بچے کے لیے ہسپتال میں بستر دستیاب نہ ہونے پر باہر سے چارپائی کا انتظام کرنا پڑے تو یہ صرف ایک خاندان کی مشکل نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ مریض کے لیے بستر، ڈاکٹر، دوا اور بروقت علاج کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بنیادی حق ہیں۔
ایک جانب خیبرپختونخوا کے عوام بنیادی سہولیات کی کمی، خستہ حال سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت کی سیاسی سرگرمیوں کا بڑا حصہ عمران خان اور ان سے وابستہ سیاسی معاملات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کے وسائل، حکومتی مشینری اور سیاسی توانائی کا بڑا حصہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں اور ان کے لیے سیاسی مہم پر صرف کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی خدمت کے اصل مسائل پسِ پشت جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی صورتحال اس وقت مزید تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے جب ایک طرف بڑے ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحات کے بلند وبانگ دعوے و اعلانات ہوں اور دوسری طرف عام شہری کو ہسپتال میں ایک بستر، بچے کو اسکول میں بنیادی سہولت اور مسافر کو محفوظ پل تک رسائی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
ضم اضلاع میں بھی تعلیم، صحت، سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بنیادی سرکاری خدمات کی فراہمی بڑے چیلنجز میں شامل ہے۔ دور دراز علاقوں میں اساتذہ اور ڈاکٹروں کی کمی، صحت مراکز کی محدود سہولیات اور انفراسٹرکچر کے مسائل عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اسی طرح صاف پانی، نکاسی آب، بجلی، روزگار اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی صوبے کے اہم مسائل ہیں۔
حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے بجٹ اور ترقیاتی منصوبے ضرور پیش کیے جاتے ہیں، لیکن اصل سوال ان منصوبوں کے عملی نتائج کا ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مختص وسائل ان کے گاؤں، اسکول، ہسپتال اور سڑک تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔
اسی دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے سیاسی رابطے اور عوامی مہم بھی جاری ہے۔ تاہم صوبے کے موجودہ حالات میں عوامی مسائل کا حل بھی مسلسل توجہ کا متقاضی ہے۔
خیبرپختونخوا میں حکومت کی اصل کامیابی بڑے اعلانات سے زیادہ اس وقت نظر آئے گی جب عام شہری کو بنیادی سہولیات کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔ ایک بچے کے لیے محفوظ اور فعال اسکول، ایک مریض کے لیے ہسپتال کا بستر، ایک باپ کے لیے اپنے بیمار بچے کا بروقت علاج اور ایک مسافر کے لیے محفوظ پل یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے عوام حکومت کی کارکردگی کو پرکھتے ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن عوامی خدمت کا سب سے مضبوط ثبوت وہ عملی تبدیلی ہے جو عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرے۔