"> پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ پر اختلافات

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر اختلافات، اراکین کے تحفظات سامنے آگئے

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل پارٹی کے اندر مشاورت، فنڈز اور کارکنان کے اعتماد سے متعلق تحفظات سامنے آگئے، تاہم قیادت نے اختلافات کی تردید کی ہے۔
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر اختلافات

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل مشاورت، فنڈز اور کارکنان کے اعتماد پر تحفظات سامنے آگئے، پارٹی قیادت نے اختلافات مسترد کر دیے۔

September 5, 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ تاہم، مارچ سے قبل پارٹی کے اندر مشاورت اور انتظامات کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور منتخب اراکین کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا فیصلہ کرتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ دوسری جانب پارٹی قیادت نے اندرونی اختلافات کی تردید کی ہے۔

پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور اراکین کے مطابق 27 ستمبر کے مارچ کا اعلان باقاعدہ مشاورت کے بغیر کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کارکنان کو متحرک کرنے میں ضلعی قیادت اور منتخب اراکین کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لیے فیصلہ سازی میں ان کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے۔

پشاور سے منتخب رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فضل الٰہی نے بھی مشاورت نہ ہونے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق ماضی میں پارٹی اہم فیصلوں پر تفصیلی مشاورت کرتی تھی، تاہم اب اراکین کو صرف فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کامیابی کے لیے منصوبہ بندی اور مشاورت ضروری ہے۔

فنڈز کے مطالبے پر بھی تحفظات

لانگ مارچ کے اخراجات بھی پی ٹی آئی کے اندر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کے مطابق مارچ کے پہلے دن کے اخراجات تقریباً 45 کروڑ روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے منتخب اراکین اور حامیوں سے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں سے 45 لاکھ روپے جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ تاہم، بعض اراکین نے اتنی بڑی رقم جمع کرنے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

کچھ رہنماؤں نے پارٹی کے اندر فنڈز کے استعمال اور مبینہ کرپشن پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر کسی نے مالی بے ضابطگی کی ہے تو اس کی وضاحت کی جائے۔

کارکنان کے اعتماد کا مسئلہ

پی ٹی آئی کے بعض ضلعی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کارکنان میں بھی پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔

ان کے مطابق ماضی کے احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکنان گرفتار ہوئے۔ بعض کارکنان کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑا، جبکہ کئی افراد کو قانونی اخراجات بھی خود برداشت کرنا پڑے۔

ایک سابق کارکن نے دعویٰ کیا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے مدد اور مالی تعاون کے وعدے کیے گئے، لیکن بعد میں ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ناراض کارکنان کو دوبارہ متحرک کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

خیبر پختونخوا پر بوجھ

پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے رہنما پنجاب اور سندھ سے کارکنان کی کم شرکت پر بھی تحفظات رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے احتجاج میں خیبر پختونخوا کے کارکنان نے زیادہ فعال کردار ادا کیا۔ تاہم، پنجاب اور سندھ سے پارٹی کارکنان کی تعداد نسبتاً کم رہی۔

رہنماؤں کے مطابق اس صورتحال سے خیبر پختونخوا کی تنظیمی قیادت میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات شفیع جان نے پارٹی میں اختلافات کی تردید کی ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ اسلام آباد مارچ کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ مختلف اضلاع کا دورہ کرکے کارکنان کو متحرک کر رہے ہیں۔

شفیع جان نے کہا کہ قیادت سے لے کر کارکنان تک سب 27 ستمبر کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کارکنان ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پنجاب سے کارکنان کے نہ نکلنے کے تاثر کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیاسی اور انتظامی حالات خیبر پختونخوا سے مختلف ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق پنجاب کے کارکنان بھی احتجاج میں شریک ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی تعداد کم ہوتی ہے۔

شیخ وقاص اکرم نے امید ظاہر کی کہ 27 ستمبر کو پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں کارکنان اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

27 ستمبر کا مارچ اہم کیوں؟

پی ٹی آئی کے لیے 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ ایک اہم سیاسی سرگرمی ہے۔ تاہم، مارچ کی کامیابی کے لیے کارکنان کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ اندرونی تحفظات دور کرنا بھی ضروری ہوگا۔

پارٹی قیادت جہاں بھرپور شرکت کے لیے پُرامید ہے، وہیں بعض رہنما مشاورت، فنڈز اور کارکنان کے اعتماد سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *