آزاد کشمیر کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجہ فاروق حیدر کے حالیہ بیانات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نیا بحث مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔ ناقدین ان کے ان بیانات کو اصولوں کی جنگ کے بجائے اقتدار چھن جانے کا غصہ اور انگور کھٹے ہیں کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں راجہ فاروق حیدر نے اعلان کیا کہ وہ آئین کی تیرہویں ترمیم کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے اور آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کو کسی صورت پاکستان کا صوبہ نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ وہ اسلام آباد کو اپنی وفاقی حکومت نہیں مانتے، کیونکہ ان کا واسطہ صرف حکومتِ آزاد کشمیر سے ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں آزاد کشمیر کی نئی وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیرِ غور ہی نہیں رکھا۔ برسوں اسی نظام کے تحت اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد اب اچانک نظام پر سوال اٹھانا ان کی نیت اور ٹائمنگ پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
چار دہائیوں پر محیط اقتدار
راجہ فاروق حیدر گزشتہ چار دہائیوں سے اس نظام کا حصہ رہے ہیں۔ 1985 میں پہلی بار رکنِ اسمبلی اور سینئر وزیر بنے، جبکہ 1991 میں دوبارہ منتخب ہو کر مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، چیئرمین وزیراعظم انسپیکشن کمیشن، اور دو بار آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ جس نظام کے تحت وہ پانچ سال سے زائد وزیراعظم رہے، اسے اب “عارضی” کہنا حیران کن ہے۔
سستی شہرت کی کوشش
ناقدین کا کہنا ہے کہ آئین کی تیرہویں ترمیم کو ختم کرنے یا آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوئی تجویز یا مسودہ موجود ہی نہیں ہے۔ جس قلعے پر کوئی چڑھائی ہی نہیں کر رہا، اس کے دفاع کے نام پر نعرے بازی کرنا محض سیاسی ڈرامہ اور سستی بہادری ہے، تاکہ عوام کی توجہ حاصل کی جا سکے۔
اگرچہ آئینی طور پر آزاد کشمیر پاکستان کا باقاعدہ صوبہ نہیں ہے، مگر یہ سچ راجہ فاروق حیدر کو اقتدار کے دنوں میں یاد نہیں آیا۔ کرسی پر بیٹھ کر تمام اختیارات اور مراعات استعمال کرنے کے بعد اب آئینی نکات کی آڑ لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ آئین نہیں بلکہ اقتدار کی محرومی کا نوحہ ہے۔
تضاد پر مبنی سیاست
راجہ فاروق حیدر کی ماضی کی سیاست بھی شدید تضادات کا شکار رہی ہے۔ 2017 میں نواز شریف کی نااہلی پر انہوں نے الحاقِ پاکستان پر سوال اٹھا دیے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی وفاداری ریاست سے زیادہ اپنی جماعت سے تھی۔ مارچ 2024 میں انہوں نے اسلام آباد کو نئی دہلی کی صف میں کھڑا کیا، جبکہ جون 2024 میں خود ہی اس بیانیے کی نفی کر دی۔
2020 میں خود کو آخری وزیراعظم قرار دینا اور 2024 میں حکومت پر کشمیر کی تقسیم کے الزامات عائد کرنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا وضاحتوں کے باوجود اس طرح کے بیانات سے تحریکی مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے اور عوام میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ کسی ایک شخص کی ذاتی سیاست سے کہیں بڑا ہے۔ 40 سال کا تجربہ رکھنے والے رہنما کو ذاتی گِلے شکووں سے اوپر اٹھ کر بالغ نظری کا ثبوت دینا چاہیے۔ جب تک کرسی ان کی تھی، نظام درست تھا؛ مگر کرسی جاتے ہی مفاد پرستی کو اصول پسندی کا لباس پہنا دیا گیا۔
راجہ فاروق حیدر کے بیانات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ الحاقِ پاکستان کے نعرے تو لگاتے ہیں، مگر ہر سیاسی موڑ پر نشانہ اسلام آباد کو ہی بناتے ہیں۔ کشمیر جیسے مقدس اور حساس معاملے کو ذاتی ناراضی اور سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کا ذریعہ بنانا کسی طور پر بھی کشمیری عوام کی خدمت نہیں ہے۔





