سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ اور مستقبل پر اہم گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے۔
خورشید محمود قصوری کے مطابق بدلتے عالمی حالات کے باوجود پاکستان کی تزویراتی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ واشنگٹن کے لیے پاکستان آج بھی خطے کا ایک اہم ملک ہے۔
سابق وزیر خارجہ نے پاکستان امریکہ تعلقات کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں کئی مرتبہ اتار چڑھاؤ آیا۔
تاہم دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی اور تزویراتی تعاون بھی رہا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔
بعد ازاں افغانستان کی صورتحال نے بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بھی پاکستان امریکہ کے لیے اہم شراکت دار رہا۔
مسلم دنیا میں پاکستان کا کردار
خورشید محمود قصوری نے مسلم دنیا میں پاکستان کی حیثیت پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق پاکستان آبادی، جغرافیہ اور دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے مسلم دنیا کا ایک اہم ملک ہے۔
پاکستان کی ایک بڑی خصوصیت اس کا ایٹمی طاقت ہونا بھی ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد مسلم اکثریتی ایٹمی ریاست ہے۔
اسی وجہ سے پاکستان کی اہمیت صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا اثر مسلم دنیا اور وسیع خطے کے معاملات پر بھی پڑتا ہے۔
سابق وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کا محل وقوع بھی اسے اہم بناتا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، افغانستان، وسطی ایشیا اور چین کے قریب واقع ہے۔
یہ جغرافیائی پوزیشن عالمی طاقتوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر خطے میں سکیورٹی اور علاقائی رابطوں کے معاملات میں پاکستان کا کردار اہم رہتا ہے۔
اسی طرح افغانستان میں امن اور استحکام کے معاملے میں بھی پاکستان کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور خطے کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ، چین اور دیگر بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات بھی نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے دیرینہ تعلقات موجود ہیں۔
خورشید محمود قصوری کے مطابق یہی عوامل پاکستان کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم ملک بناتے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل
سابق وزیر خارجہ نے مستقبل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو باہمی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
ان تعلقات میں سکیورٹی کے ساتھ تجارت، معیشت اور علاقائی استحکام بھی اہم شعبے ہوسکتے ہیں۔ بدلتی عالمی صورتحال دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم اس کے لیے دونوں ملکوں کو اپنے باہمی مفادات کو بہتر انداز میں سمجھنا ہوگا۔ اسی بنیاد پر پاک امریکہ تعلقات کو نئی سمت دی جاسکتی ہے۔
خورشید محمود قصوری کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ ملک کا جغرافیہ، دفاعی صلاحیت، مسلم دنیا میں مقام اور علاقائی کردار اسے اہم بناتے ہیں۔
انہوں نے پاک امریکہ تعلقات کے ماضی اور مستقبل کو موجودہ عالمی تبدیلیوں سے جوڑتے ہوئے پاکستان کے ممکنہ کردار کو بھی اجاگر کیا۔
دیکھیے: یوم فضائیہ آج منایا جارہا ہے، صدر مملکت اور وزیر اعظم کا ایئر فورس کے شاہینوں کو خراج تحسین