پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ 1965 کا آپریشن دوارکا، معرکۂ حق اور آپریشن محافظُ البحر پاک بحریہ کی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

September 8, 2026

روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو استعمال کرکے چین اور دیگر علاقائی ممالک سے عسکری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔

September 8, 2026

پاکستان اور سعودی عرب نے قومی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایم او یو پر دستخط کر دیے۔ معاہدہ لیپ 2026 ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران طے پایا۔

September 8, 2026

عالمی یومِ خواندگی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ معلومات سمجھنے، فیصلے کرنے اور اپنے حقوق تک رسائی حاصل کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔

September 8, 2026

عالمی یومِ خواندگی: جب کاغذ ہاتھ میں ہو مگر الفاظ اجنبی لگیں

عالمی یومِ خواندگی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ معلومات سمجھنے، فیصلے کرنے اور اپنے حقوق تک رسائی حاصل کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔
عالمی یومِ خواندگی

عالمی یومِ خواندگی 8 ستمبر کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد تعلیم کو بنیادی انسانی حق کے طور پر اجاگر کرنا اور ناخواندگی کے خاتمے کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔

September 8, 2026

آپ کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ ہے جس پر آپ کا مستقبل لکھا ہے، مگر آپ اسے پڑھ ہی نہیں سکتے۔ آپ کے سامنے دوا کا پیکٹ ہے، لیکن ہدایات سمجھ نہیں آتیں۔ بینک کی دستاویز ہے، مگر الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔ ووٹ دینے کا حق ہے، لیکن معلومات تک رسائی محدود ہے۔ یہ صرف پڑھ نہ سکنے کا مسئلہ نہیں، یہ اپنے فیصلوں، حقوق اور مواقع تک رسائی کھو دینے کا مسئلہ ہے۔

آج دنیا بھر میں عالمی یومِ خواندگی منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی محض حروف پہچاننے یا اپنا نام لکھ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو معلومات سمجھنے، سوال اٹھانے، فیصلے کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اسی لیے تعلیم اور خواندگی کو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی اینٹ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں یہ دن محض تقریبات اور سیمینارز تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں آج بھی ایسے بچے موجود ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں مزدوری کر رہے ہیں، ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ایسے بالغ افراد بھی ہیں جنہیں بنیادی خواندگی حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ دیہی علاقوں، کم آمدن والے خاندانوں اور خصوصاً لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع کی کمی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

مسئلہ صرف اسکولوں کی تعداد کا بھی نہیں۔ ایک بچہ اگر اسکول تو پہنچ جائے لیکن اسے معیاری تعلیم نہ ملے، اساتذہ کی کمی ہو، کتابیں دستیاب نہ ہوں یا گھر کے معاشی حالات اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہ دیں تو محض داخلہ خواندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں تو خواندگی کا مفہوم مزید وسیع ہو چکا ہے؛ اب ضروری ہے کہ انسان صرف کتاب پڑھنا ہی نہ جانے بلکہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کو پرکھنے، جعلی خبروں کو پہچاننے اور ٹیکنالوجی کو درست طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

عالمی یومِ خواندگی کا اصل پیغام یہی ہے کہ تعلیم کسی خاص طبقے کی سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہے۔ ایک پڑھا لکھا فرد صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا، وہ اپنے خاندان کے فیصلوں، بچوں کے مستقبل اور پورے معاشرے کی سمت پر اثر ڈالتا ہے۔ ایک کتاب ہاتھ میں آنے سے شاید دنیا فوراً نہ بدلے، مگر ایک ذہن کے کھلنے سے ایک پوری نسل ضرور بدل سکتی ہے۔


میرے نزدیک خواندگی کو صرف شرحِ خواندگی کے اعداد و شمار میں نہیں ناپنا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کا ہر بچہ کتاب پڑھ سکے، ہر نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکے اور ہر شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ سکے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ہر دن یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کتنے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں، اور کتنے لوگوں کو ابھی بھی لفظوں کی دنیا سے باہر چھوڑ رہے۔

دیکھیے: خیبرپختونخوا: 627 سرکاری اسکول بند، تعلیمی نظام کے لیے سنگین چیلنج

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ 1965 کا آپریشن دوارکا، معرکۂ حق اور آپریشن محافظُ البحر پاک بحریہ کی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

September 8, 2026

روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو استعمال کرکے چین اور دیگر علاقائی ممالک سے عسکری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔

September 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *