لاہور میں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی دیگر قیادت کے خلاف قانونی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
کیونکہ پولیس نے مختلف مقدمات میں مطلوب رہنماؤں کے پرانے عدالتی وارنٹس پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے اسلام آباد پولیس کو تمام متعلقہ تھانوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر گرفتاریوں کا حکم جاری ہوا ہے۔
نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج اور جوڈیشل کمپلیکس کے مقدمات میں نامزد افراد اب نشانے پر ہیں۔ علاوہ ازیں جنید اکبر اور عبدالغنی کے وارنٹ گرفتاری پر بھی جلد کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس کے کیسز میں شبلی فراز اور مراد سعید کے عدالتی وارنٹس کو زیرِ عمل لایا جائے گا۔
لیکن وفاقی دارالحکومت میں زرتاج گل اور عامر مسعود مغل کے خلاف بھی مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ اگرچہ پارٹی قیادت مسلسل قانونی چارہ جوئی کا مؤقف اپنا رہی ہے۔
لیکن پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں پرانی ایف آئی آرز اور عدالتی احکامات کی روشنی میں ہوں گی۔
ڈاکٹر امجد علی اور مینا خان آفریدی بھی پولیس کو مطلوب رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہیں۔
فیض آباد احتجاج کیس
دوسری جانب فیض آباد دھرنے اور احتجاج سے جڑے مقدمات کی فائلیں بھی دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔
کیونکہ علی امین گنڈاپور اور عمر تنویر بٹ کے خلاف جاری قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔
اس لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں مفرور اور روپوش رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔
تاہم تحریک انصاف نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دے کر قانونی جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
دیکھیے: پی ٹی آئی رہنما مینا خان کے وارنٹ گرفتاری جاری، پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم