جنگ ستمبر کا گیارہواں روز پاک فوج کی بڑی کامیابیوں کا دن ثابت ہوا۔ کیونکہ پاکستانی فوج نے آگے بڑھ کر دشمن پر بڑے جوابی حملے شروع کر دیے تھے، اس لیے بھارتی فوج کی لاہور اور قصور پر قبضے کی تمام کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں۔
کھیم کرن کی طرف بھارتی فوج نے اپنے ٹینکوں اور بھاری نفری کے ساتھ بڑا حملہ کیا۔ لیکن پاک فوج نے سامنے آ کر ایسا ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ دشمن کے قدم اکھڑ گئے، علاوہ ازیں قصور کے محاذ پر بھی بھارتی فوج کو مار بھگایا گیا۔
سیالکوٹ اور لاہور
لاہور کے قریب بھارتی فوجی برکی روڈ تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔ اگرچہ بھارتی فوج کے پاس نفری زیادہ تھی، لیکن پاکستانی جوانوں نے کڑا مقابلہ کیا اور انہیں کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دیا۔
سیالکوٹ کے محاذ پر پاک فوج نے ٹینکوں کی لڑائی میں دشمن کا برا حال کر دیا۔ کیونکہ پاک فوج نے سامنے سے بھارتی ٹینکوں پر سیدھے اور درست نشانے لگائے تھے، اس لیے بھارتی فوج میدان میں اپنے تباہ شدہ ٹینک چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئی۔
چھمب کے علاقے میں پاک فوج نے آگے بڑھ کر بھارت کی ایک بڑی فوجی چوکی چھین لی۔ اس کے ساتھ ہی سندھ اور راجستھان کے محاذوں پر بھی پاکستانی جوان تیزی سے بھارتی حدود میں آگے نکل گئے۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے آسمان پر بھی دشمن کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ کیونکہ ہلواڑہ کے قریب بھارتی مگ لڑاکا طیاروں کو مار گرایا گیا، علاوہ ازیں باغ ڈوگرا ایئربیس پر کھڑے 2 بھارتی بمبار طیارے بھی بمباری کر کے تباہ کر دیے گئے۔
تاہم سمندر میں پاک بحریہ کا ایسا خوف طاری تھا کہ بھارتی جہاز باہر ہی نہ نکل سکے۔ اس لیے تینوں مسلح افواج نے مل کر شاندار دفاع کیا اور بھارت کا جنگ جیتنے کا خواب ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملا دیا۔
دیکھیے: جنگِ ستمبر کا دسواں روز: جب پاک فوج نے قصور اور سیالکوٹ میں دشمن کو پسپا کر دیا