صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

September 11, 2026

تمپ میں سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا، پروٹیکشن اسکواڈ کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔

September 11, 2026

پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں داعش خراسان کے 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں اہم کمانڈر عمران عرف ابو بکر بھی شامل ہے۔

September 11, 2026

جنگ ستمبر کا گیارہواں روز پاک فوج کی بڑی کامیابی کا دن تھا، اس لیے جوانوں نے جوابی حملے کر کے بھارت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

September 11, 2026

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: پاکستان کا سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس یمن تنازع پر منعقد ہوا ہے۔ پاکستان نے سعودی خودمختاری اور حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: سعودی عرب کی مکمل حمایت

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس: پاکستان نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سالمیت اور دفاع کے جائز حق کی غیر مشروط تائید کی ہے۔

September 11, 2026

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ یہ ہنگامی نشست سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں منعقد کی گئی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے پاکستان کا دو ٹوک مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حوثی حملے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

کیونکہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ اس لیے پاکستان نے ریاض کے اپنے شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کے حق کی کھل کر تائید کی۔

پاکستانی مندوب کے مطابق کسی بھی ریاست کو اپنی سرحدوں کے دفاع سے روکا نہیں جا سکتا۔

بحیرہ احمر کی سکیورٹی

عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ یمن کی زمینی صورتحال انتہائی تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ کیونکہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملے عالمی معیشت کے لیے نیا خطرہ بن رہے ہیں۔

اگرچہ زمینی سطح پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا ماننا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا ناگزیر ہے۔

اس لیے پاکستان اقوام متحدہ کی سرپرستی میں یمنی قیادت کے باہمی سیاسی مکالمے کی حمایت کرتا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر ذمے دارانہ رویہ اپنانے پر زور دیا۔

پاکستان کا انتباہ

پاکستانی مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے اندرونی اختلافات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ممالک کی کشمکش کے باعث پیدا ہونے والا تعطل ادارے کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔

تاہم پاکستان پرامید ہے کہ کونسل کے رکن ممالک باہمی تقسیم ختم کر کے امن کے مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہوں گے۔ عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر استحکام کی خاطر اپنی سنجیدہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

دیکھیے: یمن جنگ میں نئی شدت: حوثی جنگجو موخا پہنچ گئے، سعودی اتحادی فوج کے 40 فضائی حملے

متعلقہ مضامین

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

September 11, 2026

تمپ میں سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا، پروٹیکشن اسکواڈ کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔

September 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *