یمن کے حوثیوں نے باب المندب میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ذباب پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمنی سرکاری ذرائع کے مطابق سرکاری فورسز جزیرہ میون سے نکل گئی ہیں۔
یمنی فوج نے شہریوں کو تعز۔المخا اور المخا۔ذباب روٹس استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فوج نے ان علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کو کہا ہے۔
باب المندب میں کشیدگی
حوثی رہنما محمد البخیتی نے گزشتہ روز باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
حوثیوں نے اس سے قبل یمن کے مغربی صوبے تعز میں کئی اہم علاقوں اور فوجی اڈوں پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد وہ المخا ایئرپورٹ تک پہنچ گئے۔
باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ عالمی تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
حوثی وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے سعودی قیادت میں ہونے والے حملوں میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی پر زور دیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا محاذ کھولنے سے گریز کیا۔
دیکھیے: حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا پر قبضہ، اہم فوجی اڈے پر کنٹرول حاصل کر لیا