یمن کے ساحلی شہر المخا پر حوثیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ کیونکہ جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس لیے اہم سمندری گزرگاہ باب المندب کی سیکیورٹی پر خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
حوثی دستوں نے تعز کے کئی اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی خالد بن الولید ملٹری بیس بھی حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ اگرچہ یمنی فورسز نے مزاحمت کی، لیکن حوثی مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔
باب المندب پر اثرات
حوثی رہنما محمد البخیتی نے باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع نے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن المخا پر کنٹرول سے حوثی اس راستے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔
اس لیے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے لیے سیکیورٹی خدشات بڑھ چکے ہیں۔ دنیا کا 7 فیصد تیل اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا بڑا مرکز ہے۔ اس لیے جہاز رانی کمپنیوں کو اپنے بحری راستے بدلنے پڑ سکتے ہیں۔
اگرچہ خطے میں کشیدگی پہلے سے موجود تھی، لیکن اب خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس پیش رفت سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
دیکھیے: یمن جنگ میں نئی شدت: حوثی جنگجو موخا پہنچ گئے، سعودی اتحادی فوج کے 40 فضائی حملے