پاکستانی عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود سے منسوب ایک لیک شدہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا بھی وطن قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں ٹی ٹی پی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ایک ہی قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ بیان پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور اس کے جنگجوؤں کو حاصل مبینہ سہولت پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان
نور ولی محسود سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان پر ٹی ٹی پی کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا امارتِ اسلامیہ افغانستان کا ہے۔ بیان کے مطابق امارتِ اسلامیہ اور ٹی ٹی پی الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔
یہ مؤقف دونوں تنظیموں کے تعلقات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہے، جبکہ اس کی قیادت اور جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی ایک عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کا اہم سبب ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کا بھی وطن ہے اور اس کے جنگجوؤں کو وہاں اپنی مرضی کے مطابق رہنے کا حق حاصل ہے۔
A statement allegedly issued by Noor Wali Mehsud, the leader of the Pakistani militant group TTP, has been leaked to members of the organization.
— Pamir Watch (@PamirWatch) September 11, 2026
In the statement, the militant leader asserts that Afghanistan belongs to his group just as much as it does to the Islamic Emirate of… pic.twitter.com/Y4HmSkzbFG
یہ دعویٰ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کو محض عارضی قیام کے بجائے ایک حق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ تنظیم افغانستان کے ساتھ اپنے تعلق کو مستقل وابستگی کے طور پر دیکھتی ہے۔
پاکستان کے مؤقف کو تقویت
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ اسلام آباد افغان حکام سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔
نور ولی محسود سے منسوب بیان میں ٹی ٹی پی اور امارتِ اسلامیہ کو ایک قرار دینا پاکستان کے اس مؤقف کے لیے اہم ہے کہ دونوں کے درمیان نظریاتی اور قریبی روابط موجود ہیں۔
یوں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن قرار دینے اور امارتِ اسلامیہ کے ساتھ خود کو ایک تنظیم قرار دینے والا یہ مؤقف ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات پر پاکستان کے اعتراضات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ: عالمی رپورٹس میں سنگین خطرات کی تصدیق