ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کردی۔

September 12, 2026

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔

September 12, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔

September 12, 2026

سندھ کے 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

September 12, 2026

نور ولی محسود سے منسوب لیک بیان میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن اور امارتِ اسلامیہ کو اپنی تنظیم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

September 12, 2026

خیبر کے علاقے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں حیات آباد ٹول پلازہ کی ناکہ بندی اور دیگر حملوں میں ملوث خالد عمر غازی سمیت چار خوارج ہلاک ہوگئے۔

September 12, 2026

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہیں؟ نور ولی محسود کا بڑا بیان سامنے آگیا

نور ولی محسود سے منسوب لیک بیان میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن اور امارتِ اسلامیہ کو اپنی تنظیم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ٹی ٹی پی افغان گٹھ جوڑ

نور ولی محسود سے منسوب لیک بیان میں افغانستان پر ٹی ٹی پی کے حق اور امارتِ اسلامیہ سے تعلق کا دعویٰ کیا گیا، جس سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔

September 12, 2026

پاکستانی عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود سے منسوب ایک لیک شدہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا بھی وطن قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں ٹی ٹی پی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ایک ہی قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یہ بیان پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور اس کے جنگجوؤں کو حاصل مبینہ سہولت پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان

نور ولی محسود سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان پر ٹی ٹی پی کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا امارتِ اسلامیہ افغانستان کا ہے۔ بیان کے مطابق امارتِ اسلامیہ اور ٹی ٹی پی الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔

یہ مؤقف دونوں تنظیموں کے تعلقات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہے، جبکہ اس کی قیادت اور جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی ایک عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کا اہم سبب ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کا بھی وطن ہے اور اس کے جنگجوؤں کو وہاں اپنی مرضی کے مطابق رہنے کا حق حاصل ہے۔

یہ دعویٰ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کو محض عارضی قیام کے بجائے ایک حق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ تنظیم افغانستان کے ساتھ اپنے تعلق کو مستقل وابستگی کے طور پر دیکھتی ہے۔

پاکستان کے مؤقف کو تقویت

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ اسلام آباد افغان حکام سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔

نور ولی محسود سے منسوب بیان میں ٹی ٹی پی اور امارتِ اسلامیہ کو ایک قرار دینا پاکستان کے اس مؤقف کے لیے اہم ہے کہ دونوں کے درمیان نظریاتی اور قریبی روابط موجود ہیں۔

یوں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن قرار دینے اور امارتِ اسلامیہ کے ساتھ خود کو ایک تنظیم قرار دینے والا یہ مؤقف ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات پر پاکستان کے اعتراضات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ: عالمی رپورٹس میں سنگین خطرات کی تصدیق

متعلقہ مضامین

ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کردی۔

September 12, 2026

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔

September 12, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔

September 12, 2026

سندھ کے 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

September 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *