ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کردی۔

September 12, 2026

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔

September 12, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔

September 12, 2026

سندھ کے 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

September 12, 2026

نور ولی محسود سے منسوب لیک بیان میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن اور امارتِ اسلامیہ کو اپنی تنظیم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

September 12, 2026

خیبر کے علاقے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں حیات آباد ٹول پلازہ کی ناکہ بندی اور دیگر حملوں میں ملوث خالد عمر غازی سمیت چار خوارج ہلاک ہوگئے۔

September 12, 2026

سندھ کے 40 ہزار سے زائد سرکاری اسکول، بنیادی سہولتیں کہاں ہیں؟

سندھ کے 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
سندھ کے سرکاری اسکول

سندھ کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال نے حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔ 68 فیصد اسکول بجلی اور 58 فیصد بیت الخلا سے محروم ہیں۔

September 12, 2026

سندھ میں 40 ہزار 978 سرکاری اسکول موجود ہیں، لیکن ان میں بڑی تعداد آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ دستیاب اعداد و شمار صوبے کے تعلیمی نظام کی سنگین صورتحال سامنے لاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 68 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں۔ اسی طرح 58 فیصد اسکول بیت الخلا سے محروم ہیں، جبکہ 37 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔

مسئلہ صرف بجلی، پانی اور بیت الخلا تک محدود نہیں۔ صوبے کے 49 فیصد سرکاری اسکولوں میں چار دیواری بھی موجود نہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کے لیے محفوظ اور بنیادی تعلیمی ماحول کی فراہمی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود؟

سندھ میں تعلیم کے لیے ہر سال بڑے پیمانے پر بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر ہزاروں سرکاری اسکول بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجتے ہیں تاکہ انہیں بہتر تعلیم اور محفوظ ماحول مل سکے۔ لیکن بنیادی سہولتوں کی یہ صورتحال سرکاری دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق دکھاتی ہے۔

سندھ حکومت سے جواب طلب

سوال یہ ہے کہ سندھ کے عوام کے لیے مختص ہونے والے بھاری وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ اگر ہزاروں اسکولوں میں آج بھی بنیادی سہولتیں موجود نہیں تو گزشتہ برسوں کے ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی بجٹ کے نتائج کیا ہیں؟

یہ معاملہ صرف اسکولوں کی عمارتوں کا نہیں بلکہ سندھ کے بچوں کے مستقبل کا ہے۔ حکومت کو اعداد و شمار کے ساتھ جواب دینا ہوگا کہ 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا ہدف کب مکمل ہوگا؟

اور سیاسی طور پر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن ناموں اور نعروں کے ساتھ سندھ میں برسوں سے حکومت کی جاتی رہی، ان کے سامنے صوبے کے بچوں کی یہ محرومیاں کب ختم ہوں گی؟

متعلقہ مضامین

ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کردی۔

September 12, 2026

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔

September 12, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کا 61واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔

September 12, 2026

نور ولی محسود سے منسوب لیک بیان میں افغانستان کو ٹی ٹی پی کا وطن اور امارتِ اسلامیہ کو اپنی تنظیم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

September 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *