مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

سندھ کے 40 ہزار سے زائد سرکاری اسکول، بنیادی سہولتیں کہاں ہیں؟

سندھ کے 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
سندھ کے سرکاری اسکول

سندھ کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال نے حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔ 68 فیصد اسکول بجلی اور 58 فیصد بیت الخلا سے محروم ہیں۔

September 12, 2026

سندھ میں 40 ہزار 978 سرکاری اسکول موجود ہیں، لیکن ان میں بڑی تعداد آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ دستیاب اعداد و شمار صوبے کے تعلیمی نظام کی سنگین صورتحال سامنے لاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 68 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں۔ اسی طرح 58 فیصد اسکول بیت الخلا سے محروم ہیں، جبکہ 37 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔

مسئلہ صرف بجلی، پانی اور بیت الخلا تک محدود نہیں۔ صوبے کے 49 فیصد سرکاری اسکولوں میں چار دیواری بھی موجود نہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کے لیے محفوظ اور بنیادی تعلیمی ماحول کی فراہمی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود؟

سندھ میں تعلیم کے لیے ہر سال بڑے پیمانے پر بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر ہزاروں سرکاری اسکول بجلی، پانی، بیت الخلا اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجتے ہیں تاکہ انہیں بہتر تعلیم اور محفوظ ماحول مل سکے۔ لیکن بنیادی سہولتوں کی یہ صورتحال سرکاری دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق دکھاتی ہے۔

سندھ حکومت سے جواب طلب

سوال یہ ہے کہ سندھ کے عوام کے لیے مختص ہونے والے بھاری وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ اگر ہزاروں اسکولوں میں آج بھی بنیادی سہولتیں موجود نہیں تو گزشتہ برسوں کے ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی بجٹ کے نتائج کیا ہیں؟

یہ معاملہ صرف اسکولوں کی عمارتوں کا نہیں بلکہ سندھ کے بچوں کے مستقبل کا ہے۔ حکومت کو اعداد و شمار کے ساتھ جواب دینا ہوگا کہ 40 ہزار 978 سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا ہدف کب مکمل ہوگا؟

اور سیاسی طور پر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن ناموں اور نعروں کے ساتھ سندھ میں برسوں سے حکومت کی جاتی رہی، ان کے سامنے صوبے کے بچوں کی یہ محرومیاں کب ختم ہوں گی؟

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *