سکیورٹی فورسز نے خیبر کے علاقے باڑہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے چار خوارج کو ہلاک کردیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی اکاخیل، حاجی اون کلے، باڑہ میں کی گئی۔ ہلاک ہونے والے خوارج میں خالد عمر غازی، ملک عرب گل، اریانا اور حنظلہ شامل ہیں۔
خالد عمر غازی حیات آباد ٹول پلازہ کی ناکہ بندی میں ملوث تھا۔ چند ماہ قبل اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔
وہ پشاور، باڑہ اور تیراہ میدان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف حملوں میں بھی ملوث تھا۔
خوارج کا پروپیگنڈا بے اثر
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارج اپنی طاقت کا تاثر پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا اور پہلے سے تیار کی گئی ویڈیوز کا سہارا لیتے ہیں۔ تاہم وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست مقابلے سے گریز کرتے ہیں۔
حیات آباد ٹول پلازہ پر خالد عمر غازی کی موجودگی اور اس کے بعد جاری ویڈیو بھی خوارج کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش تھی۔
خالد عمر غازی سمیت چار خوارج کی ہلاکت نے ایسے پروپیگنڈے کی حقیقت واضح کردی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی مسلسل نگرانی اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیوں سے خوارج کی نقل و حرکت محدود ہو رہی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیاں انہیں منظم ہونے اور کارروائیوں کے لیے جگہ بنانے سے روک رہی ہیں۔
خیبر میں کامیاب کارروائی سکیورٹی فورسز کے عزم اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیوں کا واضح ثبوت ہے۔
سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔