ایران نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت پر نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق غیرملکیوں کی موجودگی کے بغیر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا اہم پیش رفت ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ سعودی عرب، جاپان اور اردن کو ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت جنگ یا امن کے درمیان کسی کیفیت میں نہیں بلکہ حالتِ جنگ میں ہے۔ سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی جنگ کے مترادف ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ایران جو بھی اقدامات کرتا ہے، انہیں دفاع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
اسماعیل بقائی نے دنیا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔
امریکی مؤقف پر ردعمل
اس سے قبل اسماعیل بقائی نے نائن الیون حملوں سے متعلق امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے بیان پر بھی ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ نائن الیون حملے انہی عناصر نے کیے جنہیں امریکہ نے خود ہتھیار فراہم کیے اور منظم کیا تھا۔ ان کے مطابق نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ نے افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی۔
اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر جنگ کے بیان کو بنیادی تضادات سے بھرپور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جارحیت اور شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو دوسرے ممالک کے اقدامات کے جائز یا ناجائز ہونے پر سوال اٹھانے کا حق نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نائن الیون کو ایران کے خلاف جنگ کے جواز کے طور پر پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ ایرانی حکام، شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کسی بھی ملک کو شہریوں کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔
دیکھیے: ایرانی میزائل حملوں کا جواب: امریکہ نے 5 آئل ٹینکرز تباہ کر دیے