نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی خصوصی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو بدلتے ہوئے دہشتگردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیاں
عاصم افتخار احمد نے نائن الیون کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں 7 پاکستانی بھی شامل تھے۔
پاکستانی مندوب نے امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بھی بھاری قربانیاں دی ہیں۔
ان کے مطابق رواں صدی کے آغاز سے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی، جن میں سکیورٹی اہلکار اور شہری شامل ہیں، دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دہشتگردی سے پاکستان کی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف عالمی مہم میں پاکستان کی انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا۔
افغان سرزمین سے دہشتگردی
پاکستانی مندوب نے افغان سرزمین سے ابھرنے والی دہشتگردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران 4700 سے زائد پاکستانی ایسے دہشتگرد حملوں میں جاں بحق ہوئے جن کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور داعش سمیت دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔
دہشتگردی کے نئے خطرات
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔ دنیا کو اب دائیں بازو کی انتہا پسندی، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دہشتگردی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے دہشتگردی میں ممکنہ استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق مناسب نگرانی اور ضابطہ نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ انسدادِ دہشتگردی کی عالمی حکمت عملی کے تمام پہلوؤں پر متوازن انداز میں عملدرآمد ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی قبضے کا سامنا کرنے والے عوام کے حقِ خودارادیت کو دبانے والی قوتوں کا احتساب ہونا چاہیے اور ریاستی جبر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 1373 کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف عالمی فریم ورک تشکیل دیا تھا۔ پاکستان اس عالمی کوشش میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے پیش نظر عالمی انسدادِ دہشتگردی نظام کو نئے خطرات کے مطابق مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔