اڈیالہ جیل میں عمران خان سے کسی اہم شخصیت کی رات بھر خفیہ ملاقات اور جیل عملے کو باہر نکالنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک اہم شخصیت نے آدھی رات سے صبح تک عمران خان سے خفیہ ملاقات کی۔ پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ملاقات کے دوران جیل کا عملہ باہر تھا اور جیل کا کنٹرول خفیہ حکام کے پاس تھا۔
تاہم، دستیاب معتبر رپورٹس میں اس دعوے کی کوئی تصدیق موجود نہیں۔ اس حوالے سے نہ جیل انتظامیہ کی جانب سے کوئی تصدیق سامنے آئی اور نہ ہی کسی معتبر خبر رساں ادارے نے ایسی ملاقات رپورٹ کی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات
اس دعوے کے برعکس 11 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
ڈان کے مطابق پی ٹی آئی نے جمعرات کی ملاقات کے لیے چھ رہنماؤں کے نام جیل انتظامیہ کو دیے تھے۔ تمام متعلقہ رہنما جیل پہنچے اور ملاقات کے وقت کے اختتام تک انتظار کرتے رہے، تاہم انہیں عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اس سے قبل 3 ستمبر کو بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی تھی۔ ملاقات کے مقررہ وقت کے اختتام پر رہنما عمران خان سے ملے بغیر واپس چلے گئے۔
سوشل میڈیا دعوے؟
وائرل پوسٹ میں رات بھر جاری رہنے والی مبینہ ملاقات، جیل عملے کو ہٹانے اور جیل کا کنٹرول خفیہ حکام کے حوالے کیے جانے جیسے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن ان دعوؤں کے ساتھ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت یا مستند سرکاری تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
اس لیے دستیاب شواہد کی بنیاد پر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے کسی اہم شخصیت کی آدھی رات سے صبح تک خفیہ ملاقات کا دعویٰ بے بنیاد اور غیرمصدقہ ہے۔