بھارت میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے دوران سامنے آنے والی تصاویر میں گروپ فوٹو کے بعد مختلف عالمی رہنما ایک دوسرے سے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی الگ کھڑے نظر آتے ہیں۔
ان مناظر نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ برکس اجلاس کے میزبان مودی عالمی رہنماؤں کے درمیان نمایاں دکھائی نہیں دیے۔
تصاویر میں گروپ فوٹو کے بعد عالمی رہنماؤں کو مختلف گروپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران مودی الگ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے ان مناظر کو بھارت کی سفارتی تنہائی سے جوڑتے ہوئے مودی کے عالمی طاقت اور ’’وشو گرو‘‘ ہونے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے۔
برکس اجلاس کی میزبانی
بھارت 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اجلاس نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہو رہا ہے۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ دیگر رکن ممالک بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں عالمی معیشت، تجارت اور بین الاقوامی امور سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت جاری ہے۔
گروپ فوٹو کے بعد سامنے آنے والے مناظر نے تاہم مودی کی میزبانی اور بھارت کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کے دعووں کے تناظر میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔