سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے بلیک ہول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جسے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

September 15, 2026

بی ایل اے کی کارروائیوں سے خاران میں سڑک اور ماشکیل میں معاشی سرگرمی متاثر ہوئی، جس کا نقصان براہِ راست عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

September 15, 2026

خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

September 15, 2026

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں بجلی کی خرابی، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ہنگامی ردعمل میں تاخیر کو 14 نومولود کی ہلاکت کے اہم عوامل قرار دیا گیا۔

September 15, 2026

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی۔

September 15, 2026

نائن الیون کے پچیس سال بعد عالمی دہشت گردی ختم ہونے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور افغان پناہ گاہوں کے باعث خطے کے لیے بدستور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

September 15, 2026

پمز نرسری سانحہ: 14 نومولود کیوں نہ بچ سکے؟ انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں بجلی کی خرابی، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ہنگامی ردعمل میں تاخیر کو 14 نومولود کی ہلاکت کے اہم عوامل قرار دیا گیا۔
پمز نرسری سانحہ، 14 نومولود کیوں نہ بچ سکے؟

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ میں بجلی کی خرابی، فائر سیفٹی کی خامیوں اور ہنگامی ردعمل میں تاخیر کے اہم انکشافات سامنے آگئے۔

September 15, 2026

اسلام آباد: پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی ہولناک آگ میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی وجوہات سامنے آگئیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر قائم انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بجلی کی خرابی کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور ادارہ جاتی ردعمل میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔

نرسری میں 15 نومولود زیر علاج تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ کئی بچے آکسیجن اور سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، جس کے باعث انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل تھا۔

کیبل آگ لگنے کی وجہ

انکوائری رپورٹ کے مطابق نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد سے معلوم ہوا کہ آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 2 کے قریب موجود بجلی کی کیبل تھی۔

رپورٹ کے مطابق مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی برقی نقص کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔

تحقیقات میں آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے، آئیسکو کی بیرونی برقی خرابی یا آکسیجن کے اخراج کو آگ کی وجہ قرار دینے کے شواہد نہیں ملے۔ انکیوبیٹر یا وارمر کو بھی آگ لگنے کا ذریعہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔

فرنٹ لائن عملہ

رپورٹ نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ نرسری کا فرنٹ لائن عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔

نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود تھے۔

تاہم تقریباً ایک منٹ بعد گہرا دھواں چھا گیا اور 6 بج کر 39 منٹ تک سی سی ٹی وی کیمروں کی منظر کشی شدید متاثر ہوگئی۔

بیرونی امداد

انکوائری رپورٹ میں ہنگامی امداد کے ردعمل پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی امداد کے لیے اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی، جبکہ ڈسپیچ 6 بج کر 55 منٹ اور امدادی عملے کی عملی آمد 7 بج کر ایک منٹ پر ہوئی۔

کمیٹی نے آگ ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان اس وقفے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق پمز میں ایسا آزمودہ ایمرجنسی کمانڈ سسٹم بھی موجود نہیں تھا جو آگ لگتے ہی الارم، بیرونی اطلاع، انخلا، خطرے پر قابو پانے اور امدادی کارروائی کو ایک مربوط نظام کے تحت فعال کرسکتا۔

فائر سیفٹی کا نظام

انکوائری میں انکشاف ہوا کہ نرسری میں نومولود بچوں کے ہنگامی انخلا کے لیے باقاعدہ، منظور شدہ اور تربیت یافتہ عملے سے مشق شدہ ایس او پیز کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتا لگانے، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی بھی ثابت نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق نرسری میں 10 بستروں کی گنجائش کے مقابلے میں 15 نومولود زیر علاج تھے۔ صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں جبکہ محفوظ انخلا کے وسائل بھی محدود تھے۔

آتش گیر مواد اور آکسیجن سے بھرے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت مزید بڑھا دی۔

سابقہ تنبیہات بھی نظر انداز ہوئیں

انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز نرسری کا سانحہ ایسے خطرات کے پس منظر میں پیش آیا جن کی پہلے بھی نشاندہی ہوچکی تھی۔

سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت اور وفاقی محتسب کی 2015 کی سفارشات میں فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پمز نے 2025 میں بھی فرسودہ فائر سیفٹی انفرا اسٹرکچر کا اعتراف کیا تھا۔

مزید یہ کہ 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد بھی آگ کی بروقت نشاندہی، الارم، برقی معائنہ، انخلا، فائر فائٹنگ آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

تاہم ان سابقہ تنبیہات کو نرسری سانحے سے قبل کسی جامع اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔

کمیٹی کے مطابق 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کسی ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد حفاظتی اقدامات یا تو موجود نہیں تھے، کمزور تھے، بروقت فعال نہیں ہوئے یا ان کی مؤثریت کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

کمیٹی نے پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے کی بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد کی ہے۔

تاہم کسی مخصوص فرد پر فوجداری ذمہ داری عائد کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا مینٹی نینس میں غفلت، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، سابقہ تنبیہات کے باوجود کارروائی نہ کرنا اور بیرونی امداد طلب کرنے میں تاخیر سمیت چار پہلوؤں کی مزید فوجداری تحقیقات ضروری ہیں۔

بلاوجہ مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے

انکوائری کمیٹی نے واضح کیا کہ جن فرنٹ لائن اہلکاروں کی جانب سے بچوں کو بچانے کی کوششیں شواہد سے ثابت ہیں، انہیں صرف اس بنیاد پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ سانحے کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔

کمیٹی نے فوری طور پر فائر سیفٹی اقدامات، برقی حفاظتی آڈٹ، مؤثر فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم، آگ بجھانے کے آلات اور محفوظ انخلا کا نظام یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔

نومولود بچوں کے لیے خصوصی انخلا ایس او پیز اور باقاعدہ فائر ڈرلز کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تحقیقات کے بعد حتمی رپورٹ

وزیراعظم کی جانب سے 26 اگست کو انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ پیش کی، جبکہ حتمی رپورٹ 6 ستمبر کو تیار کی گئی۔

کمیٹی نے 52 نکاتی تحقیقی فریم ورک کے تحت آگ لگنے کی وجہ، حفاظتی انتظامات، ہنگامی ردعمل، انخلا، امدادی کارروائی، انتظامی نگرانی اور انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داری کا جائزہ لیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی حفاظتی اقدام کا محض منظور یا زیر عمل ہونا اس کے مؤثر نفاذ کا ثبوت نہیں۔ حفاظتی اقدام اسی وقت مکمل تصور ہوگا جب خطرہ عملی طور پر ختم ہو اور اس کی آزادانہ تصدیق بھی کی جائے۔

پمز نرسری کا سانحہ اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ ہسپتالوں میں صرف طبی سہولیات کافی نہیں۔ خاص طور پر نومولود بچوں کے یونٹس میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور فوری امداد کا مؤثر نظام بھی زندگی اور موت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

سانحہ پمز: وزیراعظم شہباز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا حکم

متعلقہ مضامین

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت سے قبل پرویز ہود بھائی کے ادارے بلیک ہول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جسے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

September 15, 2026

بی ایل اے کی کارروائیوں سے خاران میں سڑک اور ماشکیل میں معاشی سرگرمی متاثر ہوئی، جس کا نقصان براہِ راست عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

September 15, 2026

خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

September 15, 2026

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی۔

September 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *