عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا۔

September 17, 2026

طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے افغان وزارت دفاع کو لکھے گئے خط نے عالمی شدت پسندوں کو حاصل ریاستی سہولت کاری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

September 17, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

September 17, 2026

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر مارچ سے قبل سہیل آفریدی کی احتجاجی سرگرمیاں اور مختلف واقعات نے سیاسی احتجاج، شہری زندگی اور سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

September 17, 2026

مکہ مکرمہ پر حوثی ڈرون حملے کی پاکستان نے شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

September 17, 2026

آواران کے علاقے بدرنگ میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

September 17, 2026

مکہ کے قریب ڈرون حملہ، یمن سے مکہ تک جنگ کا دائرہ وسیع

مکہ کے قریب ڈرون حملہ، یمن سے سعودی محاذ تک جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کے لیے نئی دفاعی اور سفارتی آزمائش کیا ہے؟
مکہ کے قریب ڈرون حملہ، جنگ کا دائرہ وسیع

صدیوں پہلے ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ پر حملہ کرنے آیا، مگر تاریخ نے اس کا انجام دیکھ لیا۔ آج حوثیوں کا ڈرون ہو یا کوئی اور خطرہ، حرمین شریفین کا بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔ جس کا محافظ اللہ ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

September 17, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں اس کے اثرات صرف جنگی محاذوں، سرحدی علاقوں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہے۔

سعودی حکام کے مطابق 15 ستمبر 2026 کی شام مکہ مکرمہ پر ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے تباہ کیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوع فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا گیا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے مکہ مکرمہ کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا۔

تاہم اس واقعے کے ایک اہم پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی حکام ڈرون کو حوثیوں کی جانب سے مکہ کی طرف آنے والا حملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حوثی فریق مکہ یا کسی مذہبی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کر رہا ہے۔ اس لیے واقعے کی ذمہ داری اور ڈرون کے اصل ہدف کے بارے میں دونوں مؤقف الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔

یہ اختلاف اپنی جگہ، لیکن واقعے نے ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے: اگر یمن کی جنگ کا دائرہ مزید پھیلتا ہے تو اس کی اگلی سرخ لکیر کہاں ہوگی؟

مقامی تنازع سے علاقائی بحران تک

حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان تنازع کئی برس پرانا ہے۔ تاہم 2014 میں حوثیوں کے صنعاء پر قبضے اور مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد یہ تنازع ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہوگیا۔

اس کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے جنگ بندی کے بعد تشدد میں کچھ کمی آئی، تاہم تنازع کا بنیادی سیاسی حل سامنے نہ آ سکا۔ حالیہ عرصے میں دوبارہ حملوں اور فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اب تنازع یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستے بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والا بحران علاقائی سیاست سے آگے عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

مکہ کا معاملہ کیوں مختلف ہے؟

مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہے۔ اس لیے شہر کے قریب کسی بھی فوجی خطرے کی نوعیت عام عسکری واقعے سے مختلف ہے۔

سعودی عرب نے اسی حساسیت کے باعث مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔ دوسری جانب حوثی فریق کا کہنا ہے کہ اس نے مکہ یا کسی مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔

یہاں تجزیے کے لیے اصل نکتہ یہ ہے کہ ہدف، نیت اور ذمہ داری کے بارے میں دعووں کو ثابت شدہ حقائق سے الگ رکھا جائے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ڈرون مکہ کی طرف آ رہا تھا، جبکہ حوثیوں نے اس کی تردید کی ہے۔ یہی فرق موجودہ بحران کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی ایک رکن کے خلاف مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔

اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ 31 اگست کو استنبول میں اس کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے ساتھ علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اسی اجلاس میں تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے، مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے اور دفاعی صنعت و ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان کے لیے اصل سوال؟

یہاں پاکستان کے لیے صورتحال خاصی حساس بن جاتی ہے۔

ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا اہم دفاعی اور سفارتی شراکت دار ہے۔ دوسری طرف مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ابھی اپنی عملی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے 27 اگست کو بھی کہا تھا کہ اس معاہدے کی عملی تشکیل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ 10 ستمبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں معاہدے کے تحت کسی فوری فوجی ردعمل پر بات نہیں ہوئی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کو درپیش خطرات اور نئے دفاعی معاہدے کے باوجود پاکستان نے فوری طور پر کسی براہِ راست فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اپنی جگہ، لیکن یمن کے تنازع میں براہِ راست فوجی شمولیت کے ممکنہ علاقائی اثرات ایک الگ سوال ہیں۔

دفاع اور سفارت کاری

پاکستان کے لیے چیلنج صرف یہ نہیں کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی عزم کو کیسے برقرار رکھتا ہے۔ اصل چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کردار کیسے ادا کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے سرکاری مؤقف میں بھی اجتماعی دفاع کے ساتھ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح 31 اگست کے مشترکہ بیان میں کشیدگی کم کرنے، تحمل اور بحرانوں کے پرامن حل کی حمایت کی گئی۔

اس لیے پاکستان کے لیے ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ دفاعی تعاون اور سفارتی کوششوں کو ایک دوسرے کے متضاد سمجھنے کے بجائے دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

مکہ کے قریب ڈرون

مکہ کے قریب ڈرون کا واقعہ صرف ایک فضائی خطرے کی خبر نہیں۔ یہ اس وسیع تر تبدیلی کی علامت بھی ہوسکتا ہے جس میں یمن کا تنازع سعودی عرب، بحیرۂ احمر اور خطے کے دوسرے اہم مفادات سے جڑتا جا رہا ہے۔

اگر حملوں کا دائرہ مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات سعودی عرب کی سلامتی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بحیرۂ احمر کی جہاز رانی، باب المندب، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت سب اس کشیدگی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے مختلف علاقوں کے لیے وسیع سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے ہیں، جبکہ باب المندب اور بحیرۂ احمر کی سلامتی پر علاقائی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

اس تناظر میں مکہ کے قریب ڈرون ایک ایسا واقعہ ہے جس نے صرف سعودی سکیورٹی کا سوال نہیں اٹھایا بلکہ پاکستان سمیت خطے کے شراکت داروں کے لیے بھی نئی سفارتی اور دفاعی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔

آخرکار اصل امتحان یہی ہوگا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی عزم کو برقرار رکھتے ہوئے یمن کے وسیع تر تنازع میں براہِ راست الجھنے کے خطرات سے کیسے نمٹتا ہے۔

متعلقہ مضامین

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا۔

September 17, 2026

طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے افغان وزارت دفاع کو لکھے گئے خط نے عالمی شدت پسندوں کو حاصل ریاستی سہولت کاری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

September 17, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

September 17, 2026

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر مارچ سے قبل سہیل آفریدی کی احتجاجی سرگرمیاں اور مختلف واقعات نے سیاسی احتجاج، شہری زندگی اور سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

September 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *