حوثیوں نے سعودی ایف-15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ تعز میں تین مواصلاتی ٹاورز نشانہ بنائے گئے۔

September 17, 2026

پریشن 11 گرج کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 56 خوارج ہلاک اور 100 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

September 17, 2026

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا۔

September 17, 2026

طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے افغان وزارت دفاع کو لکھے گئے خط نے عالمی شدت پسندوں کو حاصل ریاستی سہولت کاری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

September 17, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

September 17, 2026

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر مارچ سے قبل سہیل آفریدی کی احتجاجی سرگرمیاں اور مختلف واقعات نے سیاسی احتجاج، شہری زندگی اور سکیورٹی سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

September 17, 2026

افغانستان سے دہشتگردی پر دفاعی کارروائی کریں گے: عاصم افتخار

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا۔
افغانستان سے دہشتگردی پر دفاعی کارروائی، عاصم افتخار

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ میں کہا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے تحت دفاعی کارروائی کرے گا۔

September 17, 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر کارروائی کی جائے گی اور بین الاقوامی قانون کو ملحوظ رکھا جائے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے آنے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 4 ہزار 700 سے زیادہ پاکستانی جانیں گنوا چکے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض دہشتگرد گروہ پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

عاصم افتخار نے ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک سمیت مختلف گروہوں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ان گروہوں کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیاں خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

پاکستانی مندوب نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے ان گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق کارروائی نہیں کی۔ افغانستان نے ماضی میں پاکستان کے ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد پر مسائل براہِ راست حل کرنے پر زور دیا ہے۔

افغان صورتحال پر عالمی تشویش

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بھی افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں، انسانی حقوق اور معاشی مشکلات سمیت دیگر مسائل بھی اجاگر کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں امریکہ نے دہشتگردی، زیر حراست امریکی شہریوں اور خواتین و لڑکیوں پر پابندیوں سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب روس نے افغانستان کے ساتھ رابطے اور عملی مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی۔

چین نے بھی افغانستان کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے پر زور دیا۔ چینی نمائندے نے خواتین سمیت تمام افغان شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں انسانی امداد اور علاقائی تعاون کی کوششوں کی حمایت جاری رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خطرات کے باوجود پاکستان افغانستان کے ساتھ انسانی بنیادوں پر تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر دفاعی اقدامات کرے گا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے۔

دیکھیے: ہیبت اللہ کا خفیہ خط: دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

حوثیوں نے سعودی ایف-15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ تعز میں تین مواصلاتی ٹاورز نشانہ بنائے گئے۔

September 17, 2026

پریشن 11 گرج کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 56 خوارج ہلاک اور 100 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

September 17, 2026

طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے افغان وزارت دفاع کو لکھے گئے خط نے عالمی شدت پسندوں کو حاصل ریاستی سہولت کاری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

September 17, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

September 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *