سندھ میں ترقی کے سرکاری بیانیے پر بڑا سوال اٹھا دیا گیا۔ نگاہ میں شائع مضمون سندھ میں ترقی کا اصل چہرہ میں سہیل جاوید نے صوبے میں بنیادی سہولتوں کی ابتر صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مضمون کے مطابق سندھ کے کئی علاقوں میں اسکول غیر محفوظ ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور نکاسی آب کا نظام شہریوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ عوامی خدمات کی کمزور صورتحال نے بھی حکمرانی کے انداز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عوامی پیسہ؟
تحریر میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر اربوں روپے کے ترقیاتی اخراجات کے باوجود شہریوں کو محفوظ اسکول، بہتر سڑکیں اور بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں تو پھر عوامی وسائل کے استعمال کا فائدہ کہاں پہنچ رہا ہے؟
مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی پیسہ زمین پر نظر آنے والی بہتری میں تبدیل ہونا چاہیے۔ بچوں کے لیے محفوظ اسکول، شہریوں کے لیے بہتر سڑکیں اور مؤثر نکاسی آب بنیادی ضرورتیں ہیں، کوئی اضافی سہولت نہیں۔
ذاتی مفادات مقدم
مضمون کے تناظر میں سندھ کی سیاست پر بھی اہم سوال اٹھتا ہے کہ انتظامی اور سیاسی فیصلے عوامی ضرورت کے مطابق ہوں گے یا ذاتی اور جماعتی مفادات کے تحت؟
تحریر کے مطابق عوامی مسائل کا حل سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تلاش کیا جانا چاہیے۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہو تو انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں سمیت ہر تجویز پر عوامی مفاد کی بنیاد پر بحث ہونی چاہیے۔
صوبے کی تقسیم کی مخالفت یا حمایت کسی جماعت یا حکومت کے ذاتی مفاد کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو بہتر حکمرانی، محفوظ تعلیمی ادارے، بہتر سڑکیں اور بنیادی سہولتیں کب ملیں گی؟
آخرکار عوامی وسائل عوام ہی کے لیے ہوتے ہیں، اس لیے فیصلہ بھی عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔