ملا ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز نے طالبان حکومت کا پاکستان مخالف گروہ فتنۃ الہندستان کو اسلحہ فراہم کرنے کا معاملہ بے نقاب کردیا۔
دستاویز کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ کی ہدایت پر قندھار ریجنل زون کے بیت المال شعبے کو فتنۃ الہندستان کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔
اس مقصد کے لیے قندھار صوبائی انٹیلی جنس اور بلوچ مہاجرین رابطہ کمیٹی سے رابطے کی ہدایت بھی کی گئی۔
اسلحہ اور گولہ بارود
دستاویز میں 7 کلاشنکوف رائفلیں اور 2 آر پی جی راکٹ لانچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روسی یا یورپی ساختہ رائفل بھی اسلحے کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق فتنۃ الہندستان کو کلاشنکوف کے 20 ہزار راؤنڈز بھی فراہم کیے جانے تھے۔ دیگر اقسام کے گولہ بارود کے مزید 25 ہزار راؤنڈز بھی منتقلی کے لیے مختص کیے گئے۔ اسلحے کی منتقلی کے دوران مکمل رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
طالبان کی شمولیت
دستاویز میں اسلحے کی منتقلی کے عمل میں طالبان حکومت کے مختلف اداروں کی شمولیت سامنے آتی ہے۔ قندھار صوبائی انٹیلی جنس اور بیت المال شعبے کے ساتھ بلوچ مہاجرین رابطہ کمیٹی کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا۔
یہ تفصیلات فتنۃ الہندستان کو اسلحہ فراہم کرنے کے ایک منظم طریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہیں۔
دستاویز طالبان حکومت، بھارت اور فتنۃ الہندستان کے درمیان روابط کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
اس میں طالبان حکومت کے سرکاری ڈھانچے کے ذریعے پاکستان مخالف گروہ کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیے جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
پاکستان کے خلاف کارروائیاں
پاکستان پہلے ہی افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں فتنۃ الہندستان سمیت پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ جولائی 2026 میں کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی فتنۃ الہندستان کو افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث گروہوں میں شمار کیا گیا تھا۔
نئی دستاویز طالبان حکومت کے اداروں اور پاکستان مخالف گروہ کے درمیان اسلحے کی منتقلی کے معاملے کو مزید واضح کرتی ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی تشویش افغانستان یا افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق ہے۔