مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب، فتنۃ الہندستان کو اسلحہ فراہمی کا انکشاف

شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف ہوا ہے۔
طالبان حکومت کا فتنۃ الہندستان کو اسلحہ دینے کا انکشاف

شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف۔

September 20, 2026

ملا ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز نے طالبان حکومت کا پاکستان مخالف گروہ فتنۃ الہندستان کو اسلحہ فراہم کرنے کا معاملہ بے نقاب کردیا۔

دستاویز کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ کی ہدایت پر قندھار ریجنل زون کے بیت المال شعبے کو فتنۃ الہندستان کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس مقصد کے لیے قندھار صوبائی انٹیلی جنس اور بلوچ مہاجرین رابطہ کمیٹی سے رابطے کی ہدایت بھی کی گئی۔

اسلحہ اور گولہ بارود

دستاویز میں 7 کلاشنکوف رائفلیں اور 2 آر پی جی راکٹ لانچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روسی یا یورپی ساختہ رائفل بھی اسلحے کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق فتنۃ الہندستان کو کلاشنکوف کے 20 ہزار راؤنڈز بھی فراہم کیے جانے تھے۔ دیگر اقسام کے گولہ بارود کے مزید 25 ہزار راؤنڈز بھی منتقلی کے لیے مختص کیے گئے۔ اسلحے کی منتقلی کے دوران مکمل رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

طالبان کی شمولیت

دستاویز میں اسلحے کی منتقلی کے عمل میں طالبان حکومت کے مختلف اداروں کی شمولیت سامنے آتی ہے۔ قندھار صوبائی انٹیلی جنس اور بیت المال شعبے کے ساتھ بلوچ مہاجرین رابطہ کمیٹی کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا۔

یہ تفصیلات فتنۃ الہندستان کو اسلحہ فراہم کرنے کے ایک منظم طریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہیں۔

دستاویز طالبان حکومت، بھارت اور فتنۃ الہندستان کے درمیان روابط کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔

اس میں طالبان حکومت کے سرکاری ڈھانچے کے ذریعے پاکستان مخالف گروہ کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیے جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پاکستان کے خلاف کارروائیاں

پاکستان پہلے ہی افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں فتنۃ الہندستان سمیت پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ جولائی 2026 میں کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی فتنۃ الہندستان کو افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث گروہوں میں شمار کیا گیا تھا۔

نئی دستاویز طالبان حکومت کے اداروں اور پاکستان مخالف گروہ کے درمیان اسلحے کی منتقلی کے معاملے کو مزید واضح کرتی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی تشویش افغانستان یا افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *