کوئٹہ: کالعدم تنظیموں کی جانب سے خواتین کو ورغلا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ایندھن بنانے کا گھناؤنا کھیل کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیمیں معصوم خواتین کی مجبوریوں اور جذباتی وابستگی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا خواتین کو تخریبی سرگرمیوں میں دھکیلنا ان کے استحصال اور خطرناک نیٹ ورک کی عکاسی کرتا ہے۔
کالعدم نیٹ ورکس سے منسلک رہنے والی خواتین خدیجہ اور صفیہ کے ہوشربا اعترافی بیانات سامنے آئے ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے شدت پسندوں کے رابطے میں لایا گیا تھا۔
خواتین نے انکشاف کیا کہ ذہن سازی کے بعد انہیں خطرناک کارروائیوں کے لیے آلہ کار بنایا گیا۔ اس عمل نے ثابت کیا ہے کہ یہ گروہ اپنی بقا کے لیے معاشرے کے کمزور طبقات کو ڈھال بناتے ہیں۔
سماجی اور عوامی حلقوں نے کالعدم تنظیموں کے اس دہری پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں اپنے بچوں کو محفوظ مقامات پر رکھ کر عام گھرانوں کی بچیوں کو آگ میں جھونک رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق خواتین اور نوجوانوں کو ورغلانے کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ شدت پسند گروہ شدید تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ مل کر اس گھناؤنے استحصال کے خلاف آواز بلند کرے۔