افغانستان کے صوبہ کنڑ میں داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ ثناء اللہ غفاری کو شہاب المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی داعش اور القاعدہ سے متعلق 18ویں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ثناء اللہ غفاری زندہ ہے اور داعش خراسان کی قیادت کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا ممکنہ ٹھکانہ افغانستان کا صوبہ کنڑ ہے۔
داعش خراسان سے روابط
افغان فوج کے سابق جنرل سمیع سادات کے مطابق ثناء اللہ غفاری نے کابل پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں وہ حقانی نیٹ ورک سے وابستہ ہوا۔
جنرل سمیع سادات کے مطابق غفاری بعد میں داعش خراسان کی قیادت تک پہنچا۔ انہیں حقانی نیٹ ورک کی حمایت بھی حاصل رہی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ثناء اللہ غفاری افغانستان میں داعش خراسان کی کارروائیوں کی منظوری اور ان کے لیے مالی وسائل کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔
افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس
ثناء اللہ غفاری کی کنڑ میں موجودگی کے ساتھ طالبان جنگجوؤں کی داعش خراسان میں شمولیت اور القاعدہ کی مبینہ معاونت بھی سامنے آتی رہی ہے۔
ان اطلاعات کے مطابق افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط موجود ہیں۔ ان روابط سے دہشتگرد عناصر کو بھرتی اور دوبارہ منظم ہونے کے لیے مواقع ملنے سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
افغانستان میں داعش خراسان کی قیادت کی موجودگی خطے میں دہشتگردی سے متعلق سکیورٹی خدشات کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
دیکھیے: امریکا نے داعش خراسان کے سرغنوں کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کردی