خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبائی پولیس پر مکمل سیاسی کنٹرول قائم کرنے کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے سے پی ٹی آئی کا پولیس اصلاحات کا بیانیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ نئے قانون سے فورس کی پیشہ ورانہ خودمختاری سلب کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی حکومت نے پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیر اعلیٰ کو سونپنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس اقدام کے بعد پولیس کی سالانہ حکمت عملی اور پالیسی سازی اب آئی جی کے بجائے وزیر اعلیٰ کے تابع ہو گی۔ فورس کی آپریشنل آزادی ختم ہو کر سیاسی دفتر کے ماتحت آ جائے گی۔
آئی جی کے تقرر کا پورا نظام بھی بدلا جا رہا ہے۔ وفاق کے بھیجے گئے پینل سے حتمی انتخاب پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ خود کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کو پینل مسترد کرنے اور آئی جی کو ہٹانے کا حتمی اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اس طرح صوبائی پولیس چیف مکمل طور پر سیاسی دباؤ میں کام کرے گا۔
پی ٹی آئی کے نئے مسودے کے مطابق آر پی او اور ڈی پی او کی تعیناتی کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے تبادلے بھی اب وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے کیے جائیں گے۔ اس سے ضلعی کمانڈ براہِ راست سیاسی گرفت میں آ جائے گی۔

ایکٹ میں ڈی ایس پی سطح پر 25 فیصد براہِ راست بھرتیوں کا کوٹہ وزیر اعلیٰ کے نام مختص کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اس کوٹے کے تحت من پسند افراد کو براہِ راست تعینات کرے گی۔ بعد میں یہی افسران ترقی پا کر اہم فیلڈ عہدوں پر فرائض سرانجام دیں گے۔
جلسے جلوسوں کا این او سی جاری کرنے کا اختیار ڈپٹی کمشنر سے چھین کر ڈی پی او کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اپنے سیاسی جلسوں کو تحفظ دینا اور مخالفین کو کچلنا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق پولیس کا ایسا سیاسی استعمال غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔
نگرانی اور احتساب کا خاتمہ
پی ٹی آئی حکومت نے پولیس کے احتسابی اداروں کو بھی غیر فعال کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ پبلک سیفٹی کمیشن کے تمام سات آزاد ارکان اب حکومت خود نامزد کرے گی۔ ریجنل پولیس شکایات اتھارٹی کے سربراہ اور اراکین کا تقرر بھی وزیر اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں ہو گا۔
مقامی تنازعات کے حل کے لیے قائم ڈی آر سی نظام کو بھی سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کو اختیارات دے کر اس نظام کی غیر جانبداری ختم کی جا رہی ہے۔ سنہ 2015 سے قائم اس فورم نے 85 ہزار سے زائد تنازعات کامیابی سے نمٹائے تھے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار فورس کو سیاسی بنانے سے شدید خطرات جنم لیں گے۔ فیلڈ کمانڈ کو سیاسی منظوریوں کا پابند کرنے سے انسدادِ دہشت گردی کی مہم بری طرح متاثر ہو گی۔ پی ٹی آئی کا یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والے جوانوں کے مورال کو توڑنے کی سازش ہے۔
اراکین اسمبلی کی سکیورٹی
دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان کی سیکیورٹی واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس پر متاثرہ ارکان نے آئی جی پولیس اور محکمہ داخلہ کو ہنگامی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
ارکان کا کہنا ہے کہ وہ استحقاق ایکٹ کے تحت کیٹیگری-بی سیکیورٹی کے قانونی حق دار ہیں، لہٰذا سیکیورٹی واپس لینا صریحاً قانون کی خلاف ورزی اور جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ پولیس کے انتظامی اختیارات کو کس طرح سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔