پی ٹی آئی نے کے پی پولیس کو سیاسی کنٹرول میں لانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مجوزہ ایکٹ 2026 کے تحت اہم اختیارات وزیر اعلیٰ کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔

September 23, 2026

مکران یونیورسٹی میں نئے صوبے کے قیام کی متفقہ حمایت کے بعد نیشنل پارٹی کے رہنما پھلین بلوچ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔

September 23, 2026

بلوچستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آ گیا، کوئٹہ کے شہریوں نے بھی حمایت کردی۔

September 23, 2026

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ مارچ سے قبل ریلی میں مبینہ طور پر اسلحے کے استعمال کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

September 23, 2026

ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

September 23, 2026

مکہ معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو سونپ دی گئی۔

September 23, 2026

کے پی پولیس پر پی ٹی آئی کا کنٹرول؟ مجوزہ ایکٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

پی ٹی آئی نے کے پی پولیس کو سیاسی کنٹرول میں لانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مجوزہ ایکٹ 2026 کے تحت اہم اختیارات وزیر اعلیٰ کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے پی پولیس

پی ٹی آئی حکومت کی کے پی پولیس پر سیاسی کنٹرول کی سازش بے نقاب۔ مجوزہ ایکٹ 2026 کے تحت کمانڈ، تقرریاں اور بھرتیاں اب وزیر اعلیٰ کے تابع ہوں گی۔

September 23, 2026

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبائی پولیس پر مکمل سیاسی کنٹرول قائم کرنے کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے سے پی ٹی آئی کا پولیس اصلاحات کا بیانیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ نئے قانون سے فورس کی پیشہ ورانہ خودمختاری سلب کی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے پالیسی بورڈ کی سربراہی وزیر اعلیٰ کو سونپنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس اقدام کے بعد پولیس کی سالانہ حکمت عملی اور پالیسی سازی اب آئی جی کے بجائے وزیر اعلیٰ کے تابع ہو گی۔ فورس کی آپریشنل آزادی ختم ہو کر سیاسی دفتر کے ماتحت آ جائے گی۔

آئی جی کے تقرر کا پورا نظام بھی بدلا جا رہا ہے۔ وفاق کے بھیجے گئے پینل سے حتمی انتخاب پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ خود کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کو پینل مسترد کرنے اور آئی جی کو ہٹانے کا حتمی اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اس طرح صوبائی پولیس چیف مکمل طور پر سیاسی دباؤ میں کام کرے گا۔

پی ٹی آئی کے نئے مسودے کے مطابق آر پی او اور ڈی پی او کی تعیناتی کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے تبادلے بھی اب وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے کیے جائیں گے۔ اس سے ضلعی کمانڈ براہِ راست سیاسی گرفت میں آ جائے گی۔

ایکٹ میں ڈی ایس پی سطح پر 25 فیصد براہِ راست بھرتیوں کا کوٹہ وزیر اعلیٰ کے نام مختص کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اس کوٹے کے تحت من پسند افراد کو براہِ راست تعینات کرے گی۔ بعد میں یہی افسران ترقی پا کر اہم فیلڈ عہدوں پر فرائض سرانجام دیں گے۔

جلسے جلوسوں کا این او سی جاری کرنے کا اختیار ڈپٹی کمشنر سے چھین کر ڈی پی او کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اپنے سیاسی جلسوں کو تحفظ دینا اور مخالفین کو کچلنا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق پولیس کا ایسا سیاسی استعمال غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

نگرانی اور احتساب کا خاتمہ

پی ٹی آئی حکومت نے پولیس کے احتسابی اداروں کو بھی غیر فعال کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ پبلک سیفٹی کمیشن کے تمام سات آزاد ارکان اب حکومت خود نامزد کرے گی۔ ریجنل پولیس شکایات اتھارٹی کے سربراہ اور اراکین کا تقرر بھی وزیر اعلیٰ کے دائرہ اختیار میں ہو گا۔

مقامی تنازعات کے حل کے لیے قائم ڈی آر سی نظام کو بھی سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کو اختیارات دے کر اس نظام کی غیر جانبداری ختم کی جا رہی ہے۔ سنہ 2015 سے قائم اس فورم نے 85 ہزار سے زائد تنازعات کامیابی سے نمٹائے تھے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار فورس کو سیاسی بنانے سے شدید خطرات جنم لیں گے۔ فیلڈ کمانڈ کو سیاسی منظوریوں کا پابند کرنے سے انسدادِ دہشت گردی کی مہم بری طرح متاثر ہو گی۔ پی ٹی آئی کا یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والے جوانوں کے مورال کو توڑنے کی سازش ہے۔

اراکین اسمبلی کی سکیورٹی

دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان کی سیکیورٹی واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس پر متاثرہ ارکان نے آئی جی پولیس اور محکمہ داخلہ کو ہنگامی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

ارکان کا کہنا ہے کہ وہ استحقاق ایکٹ کے تحت کیٹیگری-بی سیکیورٹی کے قانونی حق دار ہیں، لہٰذا سیکیورٹی واپس لینا صریحاً قانون کی خلاف ورزی اور جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ پولیس کے انتظامی اختیارات کو کس طرح سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

مکران یونیورسٹی میں نئے صوبے کے قیام کی متفقہ حمایت کے بعد نیشنل پارٹی کے رہنما پھلین بلوچ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔

September 23, 2026

بلوچستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آ گیا، کوئٹہ کے شہریوں نے بھی حمایت کردی۔

September 23, 2026

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ مارچ سے قبل ریلی میں مبینہ طور پر اسلحے کے استعمال کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

September 23, 2026

ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

September 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *