کراچی: سندھ کے مختلف شہروں میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کا مطالبہ سامنے آنے لگا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور لاڑکانہ کے شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کو مسائل کے حل کا ایک ممکنہ راستہ قرار دیا ہے۔ بعض شہریوں نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق شہر کی آبادی اور ضروریات کے مقابلے میں موجودہ انتظامی نظام مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔
نئے انتظامی یونٹس
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے شہروں اور وسیع علاقوں کے انتظام کے لیے نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔ ان کے مطابق اس سے مقامی سطح پر انتظامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کراچی کے بعض شہریوں نے شہر کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض افراد نے کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ پاکستان میں طویل عرصے سے سیاسی اور عوامی بحث کا حصہ رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔
موجودہ مطالبات کے بعد سندھ میں انتظامی ڈھانچے اور نئے یونٹس کے قیام پر بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا، کوئٹہ کے شہری بھی میدان میں آ گئے