بلوچستان میں نئے انتظامی صوبوں کے قیام کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ کوئٹہ کے شہریوں نے اس تحریک کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ خطے کے مسائل کا پائیدار حل صرف نئے صوبوں کی تشکیل میں ہے۔
شہریوں کے مطابق رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو ایک ہی مرکز سے چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ چھوٹے صوبے بننے سے انتظامی ڈھانچہ مختصر ہو جائے گا۔ اس تبدیلی سے سرکاری اداروں کی عام شہریوں تک براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے گی۔
بہتر گورننس کا مطالبہ
کوئٹہ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہر نئے صوبے کا اپنا وزیر اعلیٰ اور آزاد پولیس چیف ہونا چاہیے۔ اس انتظام سے سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کی براہِ راست نگرانی بہتر انداز میں کی جا سکے گی۔ اس کے نتیجے میں جرائم کی روک تھام اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
شہریوں نے واضح کیا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو معمولی دفتری کاموں کے لیے طویل اور دشوار گزار سفر کرنا پڑتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے عوامی شکایات مقامی سطح پر فوراً حل ہوں گی۔ طویل فاصلوں کے خاتمے سے پسماندہ طبقات کو درپیش سفری اور مالی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔