اقوام متحدہ کے اداروں میں لابنگ کسی بھی دہشت گرد ایجنڈے کو انسانی حقوق کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگیاں سے ملاقات کی۔ اس وفد کی سربراہی ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کی، جنہوں نے ورکنگ گروپ کی چیئر ریپورٹر گرازینا بارانوفسکا سے گفتگو کی۔
وفد نے ملاقات کے دوران اپنے ہی نام نہاد ادارے پانک کی چھ ماہ کی رپورٹ اور ایک مبینہ دستاویز پیش کی۔ بی این ایم نے دعویٰ کیا کہ اس نے زبانی گفتگو کے علاوہ دستاویزی شواہد بھی فراہم کیے۔ زمینی حقائق سے خالی اس دستاویز کا مقصد خود ساختہ دعووں کو بنیاد بنا کر ریاست کے خلاف دباؤ بڑھانا ہے۔
انسانی حقوق کا جعلی لبادہ
بی این ایم نے ملاقات میں جبری گمشدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے خاندانوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم نظریات سے وابستہ عناصر انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر اپنے پرتشدد عزائم کو چھپاتے ہیں۔ بلوچستان میں عسکریت پسندی اور بدامنی پھیلانے والے گروہ بین الاقوامی اداروں کے سامنے خود کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
جنیوا میں منفی مہم
تنظیم نے تسلیم کیا کہ وہ جنیوا میں آزادی کی نام نہاد تحریک کے لیے سفارتی مہم چلا رہی ہے۔ اس مہم کا باقاعدہ آغاز 24 ستمبر کو جنیوا پریس کلب میں بی این ایم کی بارہویں انٹرنیشنل کانفرنس سے کیا جائے گا۔ اس مہم کے تحت پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے مختلف تقاریب طے کی گئی ہیں۔
تنظیم نے جنیوا میں تصویری نمائش، نام نہاد احتجاج اور ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکہ میں بھی مہم کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں نیویارک میں ڈیجیٹل ٹرک چلانے اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرے کی تیاری کی گئی ہے۔
ریاست پر بے بنیاد الزامات
بی این ایم کے ترجمان نے الزام لگایا کہ پاکستان عالمی اداروں کے سامنے جواب دہی سے گریز کرتا رہا ہے۔ ترجمان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے مؤقف پر انحصار نہ کرے اور عملی اقدامات کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تخریبی کارروائیوں میں ملوث عناصر عالمی اداروں میں منفی لابنگ کے ذریعے اپنے اصل چہرے کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
دیکھیے: پاکستان کی جوابی کارروائی، طالبان کا ردعمل زمینی حقائق کے برعکس قرار