افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 24 ستمبر کو پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے خود کو مظلوم کے طور پر پیش کیا۔ تاہم انہوں نے 23 ستمبر کے واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس روز افغانستان سے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں بھیجے گئے تھے۔ تمام ڈرونز کو فضا میں ناکارہ بنایا گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے ڈرون لانچنگ اور اسٹوریج کے 10 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
طالبان انتظامیہ افغان سرزمین پر موجود عسکری نیٹ ورکس پر خاموش رہتی ہے۔ ترجمان نے پاکستان کو جارح قرار دیا اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ کابل حکومت نے دہشت گرد ڈھانچے کے خاتمے پر کوئی بات نہیں کی۔ جب بھی ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کابل فوری طور پر ان کے دفاع میں آ جاتا ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ رپورٹس میں ٹی ٹی پی کو ملنے والی سہولت کاری کا بھی ذکر ہے۔ اس کے باوجود افغان حکومت نے ان کے خاتمے کا کوئی عزم ظاہر نہیں کیا۔
دہشت گردوں کے مراکز دانستہ طور پر شہری آبادی کے قریب قائم کیے گئے ہیں۔ کارروائی کے بعد حکومت شہری نقصانات کا واویلا کرتی ہے۔ عام شہریوں کو عسکری مقاصد کے لیے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سرحد پار حملے
طالبان ترجمان نے دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ اعداد و شمار اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہوئے۔ پاکستان نے جوابی کارروائیوں میں 1,865 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
دہشت گردوں کا افغان تعلق
سال 2026 میں پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث 260 افغان شہریوں کی شناخت ہوئی۔ ان کے نام، پتے، خاندانی پس منظر اور تنظیمی وابستگیاں ریکارڈ پر ہیں۔ ان کے جنازے افغانستان میں ادا کیے جاتے ہیں اور ان کی قبریں بھی وہیں موجود ہیں۔
طالبان حکومت کا یہ طرز عمل دہشت گرد نیٹ ورکس سے نظریاتی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔ مجاہد نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی مگر کوئی قابل عمل حل نہیں بتایا۔ پاکستان نے سرحد پار حملوں کی روک تھام کے لیے قابل تصدیق نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان حکومت کو دہشت گرد پناہ گاہوں اور ڈرون حملوں پر واضح جواب دینا ہوگا۔