گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل کی بندش کے بعد پی ٹی آئی اب لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں رہی۔

September 27, 2026

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کی تشہیر نے پیشہ ورانہ صحافت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 27, 2026

کنڑ اور نورستان کی حالیہ جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کا افغان دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ شواہد کے مطابق یہ تنازع دراصل معدنی وسائل پر قبضے اور اندرونی مزاحمت کا نتیجہ ہے۔

September 27, 2026

صوبائی وزیر شفیع جان اور فتنہ الخوارج کے کمانڈر کے درمیان مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد لانگ مارچ کے التوا پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

September 27, 2026

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات غیر آئینی ہیں، جس کی وجہ سے گورنر راج کا امکان موجود ہے۔

September 27, 2026

نورستان اور کنڑ میں مسلح مزاحمت کی لہر پھیل گئی۔ کمدیش میں شدید لڑائی کے دوران طالبان رجیم کو جانی نقصان کے ساتھ بھاری کمک طلب کرنا پڑ گئی۔

September 27, 2026

افغان مزاحمت میں شدت: کمدیش اور کنڑ میں جھڑپیں، متعدد طالبان اہلکار ہلاک

نورستان اور کنڑ میں مسلح مزاحمت کی لہر پھیل گئی۔ کمدیش میں شدید لڑائی کے دوران طالبان رجیم کو جانی نقصان کے ساتھ بھاری کمک طلب کرنا پڑ گئی۔
نورستان اور کنڑ میں طالبان اور مزاحمت

مشرقی افغانستان کے علاقوں کمدیش اور کنڑ میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

September 27, 2026

مشرقی افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آ گئی ہے۔ نورستان کے علاقے کمدیش اور کنڑ کے مقام گورداش میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں 9 طالبان اہلکار ہلاک، 11 زخمی اور 9 لاپتا ہو چکے ہیں۔

کمدیش میں فریڈم فرنٹ کے درجنوں جنگجوؤں نے طالبان کی چوکیوں پر اچانک حملے کیے۔ جنگجوؤں نے راکٹوں اور بھاری گولہ بارود کا استعمال کیا۔ شدید لڑائی کے باعث طالبان نے کنڑ سے کمدیش اضافی نفری روانہ کی۔ اس دوران جلال آباد کی سڑکوں پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی بڑی نقل و حرکت دیکھی گئی۔

طالبان کی سخت پالیسیوں سے تنگ مقامی شہری بھی مزاحمتی گروہوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ مقامی افراد کے شامل ہونے سے مزاحمت کو عوامی طاقت مل رہی ہے۔ اس مشترکہ مزاحمت نے مشرقی علاقوں میں طالبان فورسز کے دفاع کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

خطے میں داعش کی سرگرمیوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں مختلف گروہوں کی پیش قدمی سے طالبان کا سکیورٹی کنٹرول کمزور پڑ رہا ہے۔ مشرقی افغانستان اب طالبان رجیم کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ جنگی محاذ بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سرکاری وسائل کی بندش کے بعد پی ٹی آئی اب لانگ مارچ کرنے کے قابل نہیں رہی۔

September 27, 2026

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے افغان طالبان کے بے بنیاد الزامات کی تشہیر نے پیشہ ورانہ صحافت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 27, 2026

کنڑ اور نورستان کی حالیہ جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کا افغان دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ شواہد کے مطابق یہ تنازع دراصل معدنی وسائل پر قبضے اور اندرونی مزاحمت کا نتیجہ ہے۔

September 27, 2026

صوبائی وزیر شفیع جان اور فتنہ الخوارج کے کمانڈر کے درمیان مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد لانگ مارچ کے التوا پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

September 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *