مشرقی افغانستان کے صوبوں نورستان اور کنڑ میں مسلح مزاحمت میں نمایاں تیزی آگئی ہے۔ افغان فریڈم فرنٹ اور طالبان فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کے دوران طالبان کے 37 اہلکار ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق 26 ستمبر کو طالبان فورسز نے نورستان کے ضلع کامدیش میں مزاحمتی ٹھکانوں پر دھاوا بولا۔ اس کارروائی کے فوری بعد دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہوگئی۔
مزاحمتی فورسز نے مؤثر دفاعی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے طالبان اہلکاروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ جوابی کارروائی کے نتیجے میں کامدیش اور صوبہ کنڑ کے ضلع ناری کے متعدد دیہات اور اہم چوکیوں پر مزاحمت کاروں نے کنٹرول حاصل کر لیا۔
ہلاک اور زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے نورستان اور کنڑ کے مقامی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ مزاحمتی دستوں نے بیشتر اسٹریٹجک مقامات پر اپنی پوزیشنیں مستحکم رکھیں، تاہم چند کھلی چوکیوں سے عارضی طور پر پسپائی اختیار کی۔
مزاحمتی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان اپنے جانی نقصانات چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے گمراہ کن بیانات اور عام شہریوں کی جبری ویڈیوز بنا کر نشر کی جا رہی ہیں۔
افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق نورستان اور کنڑ میں جھڑپوں کا یہ دائرہ مشرقی افغانستان کے اندر حکومت مخالف مسلح تحریک کے تیز تر پھیلاؤ کا واضح ثبوت ہے۔