سعودی عرب اور یمن کی مسلح افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مشترکہ کارروائی کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف محاذوں پر مربوط حملے کیے جائیں گے۔
فوجی منصوبے کے تحت باب المندب کے نواح میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ البیضا، مارب، تعز اور الجوف کے محاذوں پر بھرپور کارروائیاں متوقع ہیں۔
اس مہم میں ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجی زمینی پیش قدمی کریں گے۔ دوسری جانب سعودی فضائیہ کارروائی کے دوران مسلسل فضائی تعاون فراہم کرے گی۔ یہ پیش رفت آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔
بحری راستوں کی حفاظت
اس کارروائی کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کو محفوظ بنانا ہے۔ ان اہم بحری گزرگاہوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے یہ حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔
امریکا اس آپریشن کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ بعض یورپی اور علاقائی ممالک بھی سعودی فورسز کو دفاعی نوعیت کی امداد فراہم کر رہے ہیں، تاہم اتحادی ممالک کے براہ راست لڑائی میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔
دیکھیے: خانہ کعبہ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں: مسلمانوں کا حوثی کے خلاف سخت ردِعمل