کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا سربراہ بشیر زیب شدید علیل ہو گیا ہے اور وہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب نے کابل میں افغان خفیہ ایجنسی (جی ڈی آئی) کے اعلیٰ افسر سے ملاقات میں اپنی بیماری اور بھارت روانگی کے منصوبے سے آگاہ کیا۔
بشیر زیب نے افغان حکام کو بتایا کہ علاج اور سفری سہولیات کے لیے کابل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے اسٹیشن چیف سے تمام معاملات طے ہو چکے ہیں۔ علالت کے باعث وہ تنظیمی اجلاسوں سے دور رہیں گے اور ان کی جگہ کالعدم تنظیم کی تمام تر آپریشنل باگ ڈور کمانڈر عدنان بلوچ سنبھالیں گے۔
ملاقات میں افغان انٹیلی جنس نے بی ایل اے سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں موجود طالبان مخالفین اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے۔ طے شدہ فارمولے کے مطابق اہداف کی نشاندہی جی ڈی آئی کرے گی، جبکہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد بی ایل اے کی ذمہ داری ہوگی۔
اس گٹھ جوڑ کے تحت بی ایل اے کمانڈروں میراج، نصیب بُگٹی اور دورا نے جی ڈی آئی کے مولوی سارم کے ساتھ کوئٹہ میں حملے کا منصوبہ فائنل کیا۔ اس کارروائی کے مالی اخراجات کے لیے کالعدم تنظیم کے گروہ کو دو لاکھ افغانی رقم بھی فراہم کی گئی۔
اسی دوران افغان صوبے فراہ میں بی ایل اے کمانڈر صدام براہوی کو ایم فور اور کلاشنکوف رائفلوں کا بڑا ذخیرہ دیا گیا۔ یہ اسلحہ قندھاری دھڑے سے تعلق رکھنے والے حاجی قادر بلوچ نے فراہم کیا، جس سے کالعدم تنظیم، بیرونی سرپرستوں اور مقامی سہولت کاروں کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔