افغانستان میں طالبان کے زیرِ اثر سخت گیر پالیسیوں اور ریاستی جبر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی مطالبات کے باوجود ملک میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
ملک کی نسلی و مذہبی اقلیتیں شدید عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔ ہزارہ برادری کو ایک بار پھر ٹارگٹڈ حملوں، من مانی گرفتاریوں اور جبری بے دخلی کا سامنا ہے، جس سے ان کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔
🚨 افغانستان میں طالبانائزیشن اور جبر کا سلسلہ جاری!
— Hamza Sarkar (@HamxaSarkar_) October 4, 2026
خوف، تشدد، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں اور انتہا پسندانہ نظریات کا نفاذ افغانستان کو مسلسل محدود کر رہا ہے۔ تعلیم، ثقافت اور انسانی وقار بھی اس جبر سے متاثر ہیں۔ pic.twitter.com/IDWoxDWy74
شمال کے تاجک اکثریتی علاقوں، بالخصوص پنجشیر میں مخالفت کچلنے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں۔ تلاشی مہمات اور مبینہ ماورائے عدالت حراستوں نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔
افغان خواتین پر عائد پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم پر مکمل قدغن ہے، جبکہ روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت پر روک ٹوک نے انہیں معاشرے سے عملاً بے دخل کر دیا ہے۔
میڈیا، فنونِ لطیفہ اور روایتی ثقافت کو بھی سخت سنسرشپ کا سامنا ہے۔ صحافیوں اور فنکاروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ عوامی تفریح اور موسیقی پر مکمل پابندی مسلط ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور خواتین کے بنیادی حقوق تسلیم کیے بغیر افغانستان کا داخلی استحکام اور بین الاقوامی تنہائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
دیکھیے: ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پراپیگنڈا قرار؛ دہشت گردوں کو شہری ظاہر کرنے کے دعوؤں پر تنقید