پاکستان کو اس وقت افغانستان کی جانب سے مسلسل اور پیچیدہ نوعیت کے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیچھے متعدد تزویراتی، علاقائی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں، جو سرحدی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم نے اپنی تازہ ترین پالیسی سگنل رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستان مخالف شدت پسندوں کے خلاف حتمی کارروائی سے گریزاں ہے۔ اس رویے نے عسکریت پسند گروہوں کے لیے مغربی سرحد پر تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندی کا دائرہ کار اب محض روایتی زمینی ٹھکانوں تک محدود نہیں رہا۔ شدت پسند تنظیمیں پراپیگنڈا، نئی بھرتیوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو تیزی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
"Pakistan faces a persistent and complex security threat emanating from Afghanistan, shaped by an Afghan interim government reluctant to act decisively against anti-Pakistan militants; militancy expanding from physical sanctuaries into propaganda, recruitment, and digital… pic.twitter.com/p5EqyXve0o
— Dr Atia Ali Kazmi (@dratiaalikazmi) October 5, 2026
اس منظرنامے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔ بیرونی پشت پناہی کے باعث پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کو نئی تحریک اور وسائل مل رہے ہیں۔
صوبائی سطح پر حکمرانی کی کمزوریاں بھی عسکریت پسندوں کو پنپنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ انتظامی خامیاں ان نیٹ ورکس کو مقامی سطح پر سماجی بنیادیں بنانے اور قدم جمانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ تمام اسباب ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کے دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
تھنک ٹینک کے مطابق اسلام آباد کے لیے بنیادی پالیسی سوال یہ ہے کہ مغربی سرحد کے پار موجود بدامنی اور عسکری انفراسٹرکچر کو ملک کے اندرونی انتشار میں بدلنے سے کیسے روکا جائے۔ پالیسی سازوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا بیک وقت سدباب کرنا ہوگا۔