خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس کی خالی اسامیوں اور سی ٹی ڈی کی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

بھارتی ٹریولر انکیتا کمار نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں سے ملاقاتوں کے حیران کن انکشافات کیے، پاکستان مخالف بیانات اور بھارت سے قربت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 5, 2026

ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس میں پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

October 5, 2026

گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم نے پاکستان کو افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرات پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے مربوط حکمتِ عملی پر زور دیا ہے۔

October 5, 2026

یمنی سرکاری فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن میں 1747 عناصر کو ہلاک کرنے اور باب المندب کے قریب ذوباب کا کنٹرول واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 5, 2026

پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے معاشی تعلقات نیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات اور علاقائی روابط میں خلیجی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

October 5, 2026

افغانستان سے عسکریت پسندی کا خطرہ، تھنک ٹینک کی اہم رپورٹ جاری

گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم نے پاکستان کو افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرات پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے مربوط حکمتِ عملی پر زور دیا ہے۔
پاکستان افغانستان سکیورٹی خطرات

گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو افغانستان سے پیچیدہ سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

October 5, 2026

پاکستان کو اس وقت افغانستان کی جانب سے مسلسل اور پیچیدہ نوعیت کے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیچھے متعدد تزویراتی، علاقائی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں، جو سرحدی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

گلوبل پیس اسٹریٹیجی فورم نے اپنی تازہ ترین پالیسی سگنل رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستان مخالف شدت پسندوں کے خلاف حتمی کارروائی سے گریزاں ہے۔ اس رویے نے عسکریت پسند گروہوں کے لیے مغربی سرحد پر تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندی کا دائرہ کار اب محض روایتی زمینی ٹھکانوں تک محدود نہیں رہا۔ شدت پسند تنظیمیں پراپیگنڈا، نئی بھرتیوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو تیزی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

اس منظرنامے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔ بیرونی پشت پناہی کے باعث پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کو نئی تحریک اور وسائل مل رہے ہیں۔

صوبائی سطح پر حکمرانی کی کمزوریاں بھی عسکریت پسندوں کو پنپنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ انتظامی خامیاں ان نیٹ ورکس کو مقامی سطح پر سماجی بنیادیں بنانے اور قدم جمانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ تمام اسباب ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کے دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔

تھنک ٹینک کے مطابق اسلام آباد کے لیے بنیادی پالیسی سوال یہ ہے کہ مغربی سرحد کے پار موجود بدامنی اور عسکری انفراسٹرکچر کو ملک کے اندرونی انتشار میں بدلنے سے کیسے روکا جائے۔ پالیسی سازوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا بیک وقت سدباب کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس کی خالی اسامیوں اور سی ٹی ڈی کی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

بھارتی ٹریولر انکیتا کمار نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں سے ملاقاتوں کے حیران کن انکشافات کیے، پاکستان مخالف بیانات اور بھارت سے قربت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 5, 2026

ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس میں پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

October 5, 2026

یمنی سرکاری فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن میں 1747 عناصر کو ہلاک کرنے اور باب المندب کے قریب ذوباب کا کنٹرول واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *