افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے طالبان پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے۔
اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ منتخب نمائندوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
انہوں نے اقتدار فوری طور پر عوام کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ عوام نمائندہ کونسل منتخب کر کے آئندہ کا نظام حکومت طے کریں۔
حکمت یار کے مطابق ملکی پالیسی، بجٹ، جنگ اور امن کے فیصلے منتخب ادارے کریں۔ مستقبل کے کسی بھی نظام کی بنیاد عوامی مرضی ہونی چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان جنگ یا امن میں سے ایک راستہ چنیں۔ ماضی میں روس اور امریکا کی حمایتی حکومتیں بھی قائم نہیں رہ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت بھی مستقل طور پر قائم نہیں رہ سکتی۔ موجودہ حکمران اب شدید سفارتی و سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔
خطے یا عالمی سطح پر طالبان کے مستقل اتحادی موجود نہیں۔ ماضی میں ساتھ دینے والے بعض ممالک بھی اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
حکمت یار نے مخالفین کے لیے گنجائش ختم کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق دوسروں کو برداشت نہ کرنے پر طالبان کو بھی یہی دیکھنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں افغان عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ عام شہری بے روزگاری، غربت اور بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔
دیکھیے: افغان باشندہ اٹلی میں گرفتار، بھارت کے راستے سفر اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات